021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جہادکی آیات کوتبلیغ پرمنطبق کرنے کاحکم
61976جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

قرآن مجید میں چندآیات جوجہادکے لئے نازل ہوئی ہیں،ان میں جہادسے متعلق فضائل ہیں۔مثلاوالذین جاھدوافینالنہدینہم سبلنا،اس جیسی آیات کوتبلیغ کے لئے استعمال کرناکیساہے؟اسی طرح امربالمعروف ونہی عن المنکرسے جہادمرادہے یاتبلیغ؟اسی طرح احادیث میں جہادمیں نکلنے کواللہ کاراستہ کہاہے اوراس کے متعلق بہت ساری فضیلتیں آئی ہیں،ان فضائل کوتبلیغ کے لئے استعمال کرنادرست ہے یانہیں؟

o

قرآن وحدیث میں بیان کردہ کسی بھی خاص عمل کی فضیلت کودوسرے عمل پرمنطبق کرنادرست نہیں،جیسے نمازکے فضائل کوزکوة کےلئے بیان کرناصحیح نہیں۔قرآن وحدیث میں لفظ جہاد سے مراداکثرجگہ کفارسے لڑنا اورقتال ہے،کتب حدیث اورفقہ میں” کتاب الجہاد “ اور”باب الجہاد “کا عنوان اسی معنی کے لئے باندھاگیاہے،مدینہ منورہ میں جب ”حی علی الجہاد “ کی صدابلندہوتی تھی توتمام صحابہ کرام اس سے یہی معنی سمجھ کراسلحہ سے لیس ہونے کی تیاری شروع کردیتے،اصطلاح شریعت میں جہادکااصل مفہوم قتال فی سبیل اللہ ہےاوراسی کے متعلق فضائل بیان ہوئے ہیں،البتہ مجازایہ لفظ بعض اوقات دوسرے معنی کے لئے بھی استعمال ہوتاہے،جیسے سوال میں ذکرکردہ آیت” والذین جاھدوافینالنہدینہم سبلنا “ میں جاہدوا قتال فی سبیل اللہ کے معنی میں نہیں ،بلکہ مطلق دین کے لئے کوشش کرنے کے معنی میں ہےکیونکہ یہ آیت جہادکی فرضیت سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ اس وضاحت کی روشنی میں مذکورہ سوال کاجواب یہ ہےکہ جہادکی فضائل والی آیات کوتبلیغ پرچسپاں کرنادرست نہیں،اس سے بچناضروری ہے،باقی اس میں شک نہیں کہ تبلیغ بھی دین کابہت عظیم اورضروری کام ہے، ،مگراس کے قرآن وسنت میں الگ فضائل وارد ہوئے ہیں۔ تبلیغ کی فضیلت بیان کرنی ہوتووہی فضائل بیان کرنے چاہیے جواسی کے متعلق وارد ہوئے ہیں۔

حوالہ جات

......
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔