021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خاص طریقے سے جہرا ذکر کرنے کا حکم
63903جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

سوال:مذکورہ مدرسے میں اعتکاف کرنے والے لوگ رات کو اجتماعی طریقے سے ذکر بالجہر کرتے ہیں،طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کہتا ہے لاالہ الا ھو تو لوگ بھی یہی الفاظ دہراتے ہیں،پھر کچھ دیر بعد صرف ھو ھو ھو کہتے ہیں،برائے کرم اعتکاف کا مذکورہ طریقہ شریعت کی رو سے کیسا ہے؟

o

درج ذیل شرائط کی رعایت کے ساتھ تزکیہ نفس اور دل جمعی کے حصول کے لیے مذکورہ طریقے سے جہرا ذکر کرنے کی گنجائش ہے: ا۔جہر کو مستحب نہ سمجھے ۲۔اس سے کسی کی عبادت مثلا نماز یا تلاوت وغیرہ یا آرام و نیند یا کسی علمی مصروفیت میں خلل نہ آئے۔ ۳۔اس طریقے سے ذکر کو لازم یا سنت سمجھ کر نہ کیا جائے،بلکہ محض تزکیہ نفس اور توجہ میں ارتکاز اور یکسوئی پیدا کرنے کے ایک ذریعے اور سبب کے طور پر کیا جائے۔

حوالہ جات

"الدر المختار وحاشية ابن عابدين "(6/ 398): "هل يكره رفع الصوت بالذكر والدعاء؟ قيل نعم وتمامه قبيل جنايات البزازية". قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :"وقد حرر المسألة في الخيرية وحمل ما في فتاوى القاضي على الجهر المضر وقال: إن هناك أحاديث اقتضت طلب الجهر، وأحاديث طلب الإسرار والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال، فالإسرار أفضل حيث خيف الرياء أو تأذي المصلين أو النيام والجهر أفضل حيث خلا مما ذكر، لأنه أكثر عملا ولتعدي فائدته إلى السامعين، ويوقظ قلب الذاكر فيجمع همه إلى الفكر، ويصرف سمعه إليه، ويطرد النوم ويزيد النشاط اهـ ملخصا. زاد في التتارخانية: وأما رفع الصوت عند الجنائز فيحتمل أن المراد منه النوح أو الدعاء للميت بعدما افتتح الناس الصلاة أو الإفراط في مدحه كعادة الجاهلية مما هو شبيه المحال، وأما أصل الثناء عليه فغير مكروه اهـ وقد شبه الإمام الغزالي ذكر الإنسان وحده وذكر الجماعة بأذان المنفرد، وأذان الجماعة قال: فكما أن أصوات المؤذنين جماعة تقطع جرم الهواء أكثر من صوت المؤذن الواحد كذلك ذكر الجماعة على قلب واحد أكثر تأثيرا في رفع الحجب الكثيفة من ذكر شخص واحد".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔