021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کے صحن میں غسل کرنے کا حکم
..وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

اگر مسجد کا خادم فرش دھوتے ہوئے مسجد کے صحن میں ہی کپڑوں سمیت غسل کرے، تو کیا اس کا گناہ ہوگا ؟

o

اگر مسجد کا خادم بے وضو ہو تو اس کے جسم سے گرا ہو پانی مستعمل ہوگا،لہذا یہ مسجد کے احترام کے خلاف ہے اور اگر باوضو ہو تو یہ پانی اگرچہ مستعمل نہیں ہے لیکن یہ آدابِ مسجد کے خلاف ہے اس لئے اس عمل سے اجتنا ب ضروری ہے۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 5 / ص 307) وفي البدائع: وإن غسل المعتكف رأسه في المسجد فلا بأس به إذا لم يلوث بالماء المستعمل، فإن كان بحيث يتلوث المسجد يمنع منه لان تنظيف المسجد واجب، ولو توضأ في المسجد في إناء فهو على هذا التفصيل الفتاوى الهندية - (ج 1 / ص 288) وإذا غسل رأسه ليحلق شعره وهو متوضئ لا يصير مستعملا كذا في الظهيرية. الفتاوى الهندية - (ج 1 / ص 289) ولو توضأ الطاهر لإزالة الطين أو العجين أو الدرن أو اغتسل الطاهر للتبرد لا يصير الماء مستعملا . كذا في فتاوى قاضي خان
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔