021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لیبارٹری کاسامان بنانے والی کمپنی کاہسپتال والوں سے Reagent Rental کامعاہدہ کرنا
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

سوال:لیباٹری میں استعمال ہونے والا سامان بنانے والی ایک کمپنی ہسپتال والوں سے یہ معاہدہ کرتی ہے، کہ ہم اپنی طرف سے ایک مشین آپکی لیباٹری میں لگا کر دیتے ہیں ،جو ہماری ملکیت میں ہو گی، اس کا سارا خرچ ہم خود کریں گے، یہاں تک کہ آپ کے عملے کو مشین چلانے کی ٹریننگ بھی ہم دیں گے،اگر مشین خراب ہو جائے تو اس کی مرمت بھی ہم خود کروا کر دیں گے۔اس کے بدلے آپ کو یہ کرنا ہو گا کہ Reagents consumables/ )اس مشین میں دوران ٹسٹ استعمال ہونے والا سامان ( کا ۹۵ فیصد آپ ہم سے ایک ماہ کے اڈوانس آرڈر پر خریدو گے۔اس کے بعد اس سامان کا ایک ریٹ طے ہو جاتا ہے کہ فلاں فلاں چیز اتنے اتنے میں ہو گی۔ساتھ کمپنی یہ شرط لگا دیتی ہے کہ اگر ۹۵ فیصد سامان ہم سے نہ خریدا تو آئندہ کے ریٹ تبدیل ہوں گے سابقہ ریٹ لسٹ غیر معتبر ہو گی۔ ایسے معاہدہ کو Reagent Rental کا نام دیا جاتا ہے،اوراس طرح کے معاہدات بڑے ہسپتالوں وغیرہ میں بکثرت ہوتے ہیں ۔شرعاً ایسے معاہدے کا کیا حکم ہے ؟اگر ناجائز ہیں تو جواز کی کوئی صورت بھی بتا دیں۔

o

مذکورہ معاملےکے نام سےاگرچہ یہ ظاہرہو رہا ہے کہ مشین کو اجارہ پر دیا جا رہا ہے جس میں اجرت یہ طے ہو گی کہ ہسپتال والے ۹۵ فیصد Reagents کمپنی سے ہی خریدیں گے۔لیکن چونکہ کمپنی کا اصل مقصد ہسپتال کو مشین اجارہ پر دینا نہیں ہوتا ، بلکہ Reagents کی ایک بڑی مقدار کی سیل کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ لہذا یوں کہا جائے گا کہ کمپنی نے ہسپتال کو یہ آفر کی ہے کہ اگر آپ ۹۵ فیصد Reagents ہم سے خریدو گے تو ہم اس کے ساتھ ایک مشین استعمال کے لیے آپکو مفت مہیّا کریں گے۔ چنانچہ اصل عقد Reagentsکو بیچنے کا ہو رہا ہے ،جس کے لیے ہسپتال پہلے سے وعدہ کر لیتا ہے،اور مشین کا استعمال خریدار کو اضافی سہولت دے کر رغبت دلانے کے لیے ہے۔نیز اس طرح معاملے کا عرف بھی ہے ،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے معاملات کی بظاہر ضرورت بھی ہے۔ لہذا یہ معاملہ شرعاً جائز ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ اس معاملے کے نام کو تبدیل کر کے کو ئی ایسا نام دیا جائے جس میں Reagents کی خریداری اصل ہو اور مشین کا استعمال ثانوی اور اضافی ہو۔ رہی بات Reagents کےریٹ کی تبدیلی کی تو آئندہ آنے والے نئے معاملے میں فریقین باہمی رضامندی سے کوئی بھی قیمت طے کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

شرح القواعد الفقهية ــ للزرقا (الأمور بمقاصدها)۔۔۔۔ إن هذه القاعدة تجري في كثير من الأبواب الفقهية مثل (1) المعاوضات والتمليكات المالية۔۔۔۔۔۔۔۔ - أما المعاوضات والتمليكات المالية فكالبيع والشراء والإجارة والصلح والهبة فإنها كلها عند إطلاقها _ أي إذا لم يقترن بها ما يقصد به إخراجها عن إفادة ما وضعت له _ تفيد حكمها وهو الأثر المترتب عليها من التمليك والتملك ،لكن إذا اقترن بها ما يخرجها عن إفادة هذا الحكم وذلك كإرادة النكاح بها وكالهزل والاستهزاء والمواضعة والتلجئة فإنه يسلبها إفادة حكمها المذكور فإنه إذا أريد بها النكاح كانت نكاحاً،۔۔۔۔۔۔ الدر المختار للحصفكي (5/ 204) الاصل الجامع في فساد العقد بسبب شرط (لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لاحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) هو (من أهل الاستحقاق) للنفع بأن يكون آدميا، فلو لم يكن كشرط أن لا يركب الدابة المبيعة لم يكن مفسدا كما سيجئ (ولم يجر العرف به و) لم (يرد الشرع بجوازه) أما لو جرى العرف به كبيع نعل مع شرط تشريكه أو ورد الشرع به كخيار شرط فلا فساد۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔