021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کے اندر وضوخانہ بنانا
..وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

سوال:ایک مسجد جو کافی عرصہ سے سڑک کے کنارے بنائی گئی ہے۔مسجد کا مکان ختم ہونے کے فوراً بعد سڑک کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔آج تک مسجد کا وضو خانہ سڑک کی حدود میں بنایا گیا تھا۔اب سڑک کی توسیع ہو رہی ہے مسجد کے دائیں بائیں کوئی جگہ خالی نہیں جس میں وضوخانہ بنایا جائے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ مسجد کے ہال میں دیوار کر کےہال کو ضرورت کے مطابق کر دیں اور مشرق کی طرف سامنے جو جگہ بچے اس میں برآمدہ بنائیں اور ایک طرف وضو خانہ بن جائے۔کیا ایسا کرنا درست ہو گا۔ جگہ برائے وضوخانہ مغرب مشرق مشرق

o

جس جگہ کی تعیین ایک مرتبہ شرعی مسجد کے لیے ہو جائے اور وہاں نماز ادا ہو چکی ہو۔ اس جگہ کو کسی اور مقصد کے لیے اس طرح مختص نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں نماز ادا نہ ہو سکے۔مذکورہ صورت میں وضو خانہ کے لیے تجویز کی گئی جگہ پہلے نماز کے لیے مختص کی گئی تھی لہذا یہاں وضو خانہ بناناجائز نہیں اور اس میں مسجد میں کندگی پیدا ہونے کا اندیشہ بھی ہے۔ وضوخانے کا مسجد سےمتصل ہونا ضروری نہیں تھوڑے فاصلے پر کوئی متبادل جگہ دیکھ لی جائے یا مسجدکے پیچھےمغربی جانب اگر کوئی صورت ممکن ہو تو وہاں تعمیر کرلی جائے۔ البتہ اگر کوئی جگہ نہ ملے اور سڑک کے کنارے کوئی ایسی جگہ ہو جہاں وضوخانے کی تعمیر سے گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہوتی ہو تو متبادل جگہ ملنے تک وہاں تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 358) لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية، فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره فيجب هدمه ولو على جدار المسجد الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 377) (جعل شيء) أي جعل الباني شيئا (من الطريق مسجدا) لضيقه ولم يضر بالمارين (جاز) لأنهما للمسلمين واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔