021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مالی جرمانے کا حکم
..حدود و تعزیرات کا بیانتعزیر مالی کے احکام

سوال

سوال: ہمارے ہاں سکولوں میں ادارے کے قانون کی خلاف ورزی پر بچوں کو فائن کیا جاتا ہے ۔جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ان سے جرمانے کے طور پر مخصوص رقم وصول کی جاتی ہے کیا یہ جا ئز ہے ؟ اگر نہیں تو اسلامی بینکوں میں جو جرمانہ کیا جاجاتا ہے اس کو کیوں جائز کہا جاتا ہے؟ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں ۔

o

مالی جرمانہ لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے ،البتہ اگر کسی جرم پر جرمانہ لینا ملکی قانون میں ہو تو انتظامی مصلحت کے پیش نظراس کی گنجائش ہے۔ اگر سکول میں جرمانہ کی کوئی صورت ملکی قانون میں داخل ہو تو وہ جائز ہو گی ۔اس کے علاوہ دیگر جرمانے جو سکول کا عملہ اپنے طور پر لاگوکرے جائز نہیں ہوں گے،البتہ اگر رقم لے لی جائے اور کچھ عرصہ بعد واپس کی جائے تو اس کی اجازت ہے۔ اسلامی بینکوں میں لی جانے والی رقم مالی جرمانے کے طور پر نہیں لی جاتی بلکہ التزام تصدق(کسی کا یوں کہنا کہ اگر میں فلاں کام کروں تو اتنا اتنا صدقہ کروں گا) کے طور پر لی جاتی ہے جو شرعا جائز ہو تی ہے۔یہ رقم بینک خود استعمال نہیں کرتے بلکہ صدقہ کے مصارف میں لگاتے ہیں۔

حوالہ جات

(رد المحتار) (4/ 61) "مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي." الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 332) "ولو نذر أن يتصدق بملكه لزمه أن يتصدق بجميع ما يملك" الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 332) "ولهذا قالوا إذا نذر أن يتصدق بماله وعليه دين يحيط به لزمه أن يتصدق به فإن قضى به دينه لزمه أن يتصدق بمثله" المبسوط للسرخسي (4/ 134) "(قال): ولو قال: إن فعلت كذا فأنا أهدي كذا وسمى شيئا من ماله فعليه أن يهديه؛ لأنه التزم أن يهدي ما هو مملوك له، والهدي قربة والتزام القربة في محل مملوك له صحيح كما لو نذر أن يتصدق به" واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔