021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کالےخضاب کی خریدوفروخت کاحکم
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کالا رنگ جو بالوں میں لگایا جاتا ہے، اس کو بیچنے کی کیا حکم ہے جبکہ اس کا استعمال جائز نہیں؟

o

فی الجملہ جس کا استعمال مشروع ہو اس کی خرید وفروخت جائز ہوتی ہے۔ بالوں میں لگائےجانے والے کالے رنگ کابھی جائز استعمال ممکن موجود ہےجیسا کہ جہاد میں دشمن پر رعب ڈالنے کے لیے کالا رنگ استعمال کیا جاسکتا ہے وغیرہ۔ لہذا کالے رنگ کے خضاب کی خرید و فروخت جائز ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5 / 144): ويجوز بيع آلات الملاهي من البربط، والطبل، والمزمار، والدف، ونحو ذلك عند أبي حنيفة۔۔۔۔ ولأبي حنيفة - رحمه الله - أنه يمكن الانتفاع بها شرعا من جهة أخرى بأن تجعل ظروفا لأشياء، ونحو ذلك من المصالح فلا تخرج عن كونها أموالا، وقولهما: إنها آلات التلهي، والفسق بها قلنا نعم لكن هذا لا يوجب سقوط ماليتها كالمغنيات، والقيان، وبدن الفاسق، وحياته، وماله، وهذا؛ لأنها كما تصلح للتلهي تصلح لغيره على ماليتها بجهة إطلاق الانتفاع بها لا بجهة الحرمة۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔