021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زیادہ قسمیں کھانا
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ایک شخص بات بات پر قسم کھاتا ہے اس کے ساتھ معاملات کرنا کیسا ہے؟

o

ایسے شخص سے معاملات کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے البتہ بات بات پر قسم کھانا شرعاً مذموم ہے اگر چہ وہ حق بات ہی کیوں نہ ہو اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے۔

حوالہ جات

تفسير الألوسي (21/ 160، بترقيم الشاملة آليا) { وَلاَ تُطِعْ كُلَّ حَلاَّفٍ } كثير الحلف في الحق والباطل وكفى بهذا مزجرة لمن اعتاد الحلف لأنه جعل فاتحة المثالب وأساس الباقي وهو يدل على عدم استشعار عظمة الله عز وجل وهو أم كل شر عقداً وعملاً وذكر بعضهم أن كثرة الحلف مذمومة ولو في الحق لما فيها من الجرأة على اسمه جل شأنه الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 504) (قوله: وشرطه أهلية المتعاقدين) أي بكونهما عاقلين، ولا يشترط البلوغ والحرية.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔