021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نفقہ کا لزوم
..نان نفقہ کے مسائلدیگر رشتہ داروں کے نفقحہ کے احکام

سوال

میرے شوہر (مولانا عبداللہ ) کی شہادت آج سے تقریباً سات سال پہلے 2011ء میں ہوئی۔انتقال کے وقت میرے علاوہ میری بیٹی (فاطمہ) اور ان کے والدین (میرے ساس ،سسر)اور ان کے چھ بھائی (میرے دیور)موجود تھے۔انتقال کے وقت ان پر کچھ قرضے تھے،جن میں سے کچھ انتقال کے بعد ان کےترکہ میں سے ادا کیے گئے،اور کچھ تاحال ادا نہیں کیے گئے۔ان کی ملکیت میں ایک پلاٹ بھی تھا ،جو تاحال اسی حالت میں ہے۔ مذکورہ پس منظر کے بعد آپ سےجواب مطلوب ہےکہ: 2011 سے تاحال میری بیٹی کے اخراجات کس پر لازم ہیں ؟

o

اگر آپ کی بیٹی کے پاس میراث کی رقم موجود ہے تب تو اس کے اخراجات اسی میں سے ادا کیے جائیں گے لیکن اگر اس کے پاس کوئی رقم موجود نہیں تب اس کے اخراجات دادا یعنی آپ کے سسر پر لازم ہیں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 33) ولا يشارك الجد أحد في نفقة ولد ولده عند عدم ولده؛ لأنه يقوم مقام ولده عند عدمه البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 226) أقول: ومراد المصنف بالأب ما يشمل الجد وبالولد ما يشمل ولد الولد ففي البدائع ولا يشارك الولد في نفقة والديه أحد، وكذا في نفقة جده وجدته عند عدم الأبوين ولا يشارك الأب في نفقة ولده أحد، وكذا لا يشارك الجد أحد في نفقة ولد ولده عند عدم وليه لقيامه مقامه عند عدمه اهـ. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 34) [فصل في شرائط وجوب هذه النفقة] وأما شرائط وجوب هذه النفقة فأنواع: بعضها يرجع إلى المنفق عليه خاصة، وبعضها يرجع إلى المنفق خاصة، وبعضها يرجع إليهم، وبعضها يرجع إلى غيرهما أما الذي يرجع إلى المنفق عليه خاصة فأنواع ثلاثة: أحدها إعساره فلا تجب لموسر على غيره نفقة في قرابة الولاد وغيرها من الرحم المحرم؛ لأن وجوبها معلول بحاجة المنفق عليه فلا تجب لغير المحتاج ولأنه إذا كان غنيا لا يكون هو بإيجاب النفقة له على غيره أولى من الإيجاب لغيره عليه فيقع التعارض فيمتنع الوجوب بل إذا كان مستغنى بماله كان إيجاب النفقة في ماله أولى من إيجابها في مال غيره
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔