021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجدکے چندہ سے علاقے والوں کے لیے برما(بورنگ،ہینڈ پمپ) لگانے کاحکم
..وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

سوال: علاقے میں ایسا ہوتا ہے کہ جب پانی کی قلت ہوتی ہے تو علاقے والے مسجد سے پانی بھر کر لے جاتے ہیں۔ لوگوں کے بار بار آنے اور پانی لے جانے سے مسجد کے پانی کا نظم متاثر ہوتا ہے۔ لوگوں کو اس سے باز رکھنے اور لوگوں کی سہولت کے لیے کمیٹی چاہتی ہے کہ مسجد کے باہربورنگ کرواکر برمے(ہینڈ پمپ) کا انتظام کردے تاکہ لوگ بار بار مسجد سے پانی لے نے کے بجائے باہر ہی سے پانی لے جائیں۔ کیا اس غرض کے لیے مسجد کی آمدنی استعمال کی جاسکتی ہے؟

o

اصل تو یہ ہے کہ مسجد کے مال اور چندہ کومسجد کی ضروریات میں صرف کیا جائے،البتہ اگر مسجد کی تمام ضروریات پوری ہونے کے بعد بھی کافی پیسہ باقی ہوتو پھر مسجد کے لیے وقف کی نیت سے بورنگ کرائی جاسکتی ہے، یعنی اصلا تو مسجد کے پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کی نیت سے بورنگ کرائی جائے اور تبعا لوگ بھی اس سے پانی لے لیں تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ ہینڈ پمپ کے لیے الگ سے چندہ کر لیا جائے۔

حوالہ جات

مجمع الضمانات (1 / 326): اجتمع من مال المسجد شيء فليس للقيم أن يشتري به دارا للوقف ولو فعل ووقف يكون وقفه، ويضمن، وأفتى محمد بن سلمة بأنه يجوز وقيل هذا استحسان، والقياس أنه لا يجوز، وينبغي أن يشتري، ويبيع بأمر الحاكم. الفتاوى الهندية (2 / 462): مسجد بجنبه فارقين يضر بحائط المسجد ضررا بينا، فأراد القيم وأهل المسجد أن يتخذ من مال المسجد حصنا بجنب حائط المسجد ليمنع الضرر عن المسجد قالوا: إن كان الوقف على مصالح المسجد جاز للقيم ذلك؛ لأن هذا من مصالح المسجد وإن كان الوقف على عمارة المسجد لا يجوز؛ لأن هذا ليس من عمارة المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان والأصح ما قال الإمام ظهير الدين: إن الوقف على عمارة المسجد وعلى مصالح المسجد سواء، كذا في فتح القدير.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔