021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سفر میں کتنے دن قیام کی وجہ سے پوری نماز پڑھنا
62027 نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں سفر کے دوران کسی جگہ اگر قیام کا ارادہ کیا جائے تو کتنے دن ٹھہرنے پر پوری نماز پڑھنا لازم ہوتا ہے؟

o

سفر میں جب کسی جگہ 14 دن یا اس سے کچھ زیادہ مگر پندرہ دن رات سے کم کم تک رہنے کا ارادہ ہو تو قصر نماز پڑھی جائے گی ،لیکن اگر پندرہ دن رات یا اسے زیادہ رہنے کا ارادہ ہو تو ایسی صورت میں پوری نماز پڑھنا لازم ہے۔

حوالہ جات

( ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر ، وإن نوى أقل من ذلك قصر (فتح القدير:3 / 159) (من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر. …. (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) من أقصر أيام السنة ولا يشترط سفر كل يوم إلى الليل بل إلى الزوال ولا اعتبار بالفراسخ على المذهب (بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة) حتى لو أسرع فوصل في يومين قصر؛ ولو لموضع طريقان أحدهما مدة السفر والآخر أقل قصر في الأول لا الثاني. (حاشية ابن عابدين:2 / 121)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔