021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیچی ہوئی چیز کی رقم کا دوبارہ مطالبہ کرنا
63782خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

بکر نے زید کے والد سے ایک عرصہ پہلے ایک پلاٹ خریدا اور مقررہ قیمت ادا کردی، جبکہ پلاٹ کا انتقال بکر کے نام پر نہیں ہوا بلکہ گواہان کی موجودگی میں بطورِ سند اس بیع کو تحریر کرلیا گیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد جب بکر کی طرف سے انتقال کا مطالبہ کیا گیا تو زید نے کہا کہ یہ پلاٹ میرے والد نے فروخت کیا تھا جو کہ اب فوت ہوچکا ہے، اور چونکہ انتقال تو ہوا نہیں تھا اس لیے یہ اب ہماری وراثت میں آگیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ یہ لینا چاہیں تو آج کے حساب سے دوبارہ قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ کیا زید کا دوبارہ قیمت کا مطالبہ کرنا درست ہے؟کیا یہ قیمت دوبارہ ادا کی جائے؟ اگر کچھ رقم دے کر ان کو اسی تحریری معاہدے پر راضی کر لیا جائے اور انتقال کروالیا جائے تو یہ رقم رشوت کے زمرے میں تو نہیں آئے گی؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائی جائے۔

o

شرعی طور پر ملکیت کا انتقال خرید و فروخت کا معاملہ مکمل ہونے سے ہی ہوجاتا ہے۔اس کے لیے سرکاری کاغذات میں انتقال یا رجسٹری کی ضرورت نہیں۔ خریدو فروخت کا معاملہ درست طور پر مکمل ہو جانے کے بعد فریقین میں سے کسی کے لیے بھی یکطرفہ طور پر معاملہ ختم کرنے کا حق باقی نہیں رہتا، اور نہ ہی فروخت کی گئی چیز میں فروخت کنندہ کے لیے تصرف کا کوئی حق باقی رہتا ہے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ بکر اور زید کے والد کے درمیان بیع کا معاملہ شرعی طور پرمکمل ہوچکا تھا، لہٰذا صرف پلاٹ کے بکر کے نام انتقال نہ ہونے کی وجہ سے زید کا اس پلاٹ میں کسی قسم کا کوئی حق نہیں اور نہ ہی وہ کسی قسم کا مطالبہ کرنے کامجاز ہے۔ البتہ اگر زید یہ پلاٹ بکر کے نام انتقال کروانے پر راضی نہ ہورہا ہو تو بکر اپنا حق وصول کرنے کے لیے اور مقدمے وغیرہ کی کارروائی سے بچنے کے لیے زید کو کچھ رقم دے اور پلاٹ کا انتقال اپنے نام کروالے تو بکر کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔لیکن زید کے لیے یہ رقم وصول کرنا جائز نہ ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 362) الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔