021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تبليغی سفر میں مسجد میں دوسری جماعت کروانا
67332نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

مسجد میں دوسری جماعت کروانے کا کیا حکم ہے؟مقیم اور مسافر دونوں کا علیحدہ علیحدہ مسئلہ واضح فرمادیں۔اکثر تبلیغ میں نکلنے والی جماعتیں دورانِ سفر  عام مساجد میں اور تشکیل والی مساجد میں جماعت ہو جانے کے بعد دوسری جماعت کرواتی ہیں،          برائے مہربانی اس صورت ِ حال کا تفصیلی حکم بیان فرمادیں۔

o

اصول یہ ہے کہ اگر محلے كی ایسی مسجد ہوجس کا امام اور مؤذن متعین ہو اور محلے کے لوگ باقاعدہ اذان واقامت کے ساتھ جماعت کروا چکے ہوں تو ایسی مسجد میں دوسری جماعت کروانا مکروہِ تحریمی ہے۔خواہ وہ جماعت کروانے والے مسافر ہوں یا   مقیم ہوں۔لہذا ایسی صورت میں اگر اس مسجد کے نماز کے لیے مخصوص حصے سے باہر اگر جماعت کا انتظام ہو سکے تو جماعت کروالی جائے،ورنہ مسجد میں تنہا پڑھ لی جائے۔

لیکن اگر کوئی مسجد محلے سے ہٹ کر عام راستے پر ہو اور اس كا امام ومؤذن مقرر نہ ہوتو اس میں دوسری جماعت بلا کراہت جائز ہے۔

حوالہ جات

(1) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"لقد هممت أن آمرفتيتي فيجمعوا حزما من حطب، ثم آتي قوما يصلون في بيوتهم ليست بهم علة، فأحرقها عليهم".(ابوداؤد:1/411) (2) يكره تكرار الجماعة في مسجد محلة بأذان وإقامة، إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله، أو أهله لكن بمخافتة الأذان. . . . . قال في المنبع: والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع، وبالأذان الثاني احترازعما إذا صلى في مسجد المحلة جماعة بغير أذان حيث يباح إجماعا. (ردالمحتار:2/288) (3) رجل دخل مسجداً صلى فيه أهله، فإنه يصلي وحده من غير أذان وإقامة، ويكره أن يصلي بجماعة بأذان وإقامة.(المحیط البرھانی فی فقہ النعمانی:1/533) (4) ولو فاتته صلاة جماعة فصلاها في مسجده وحده، أو بجماعة في مسجد آخر، أو في بيته فذلك حسن، وتكره الجماعة في مسجد بأذان وإقامة بعدما صلى أهله بجماعة، وبه قال الشافعي وأحمد ومالك. (البنایۃ شرح الھدایۃ:2/325) (6) عن أبِي حنيفة أنّه قال: لا يَجُوز إعادة الْجماعةفِي مسجدله إمام راتب.(نصب الرایۃ:2/58)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔