021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح میں شرط لگانے کا حکم
67861نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ایک عقد نکاح میں لڑکی پچاس تولہ سونا،نماز و روزہ کی ادائیگی اور چار ماہ لگانے کی شرائط  کے ساتھ نکاح کرنے پر آمادہ  ہوگئی ؛چونکہ وہ عالمہ ہے اور اس کا شوہر عامی ہے۔ باقاعدہ  نکاح بھی ہوچکا ہے، البتہ اسے ہمارے عرف میں منگنی کہا جاتا ہے اور رخصتی کے وقت میں تجدید نکاح بھی کیا جاتا ہے۔لیکن اب رخصتی سے پہلے دونوں میں تنازعہ  کھڑا ہوا کہ وہ شخص نماز  و روزہ کی ادائیگی نہیں کررہا ۔لہٰذا اب لڑکی اس سے اپنا عقد توڑنا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ پچاس تولہ سونے کا اسٹامپ پیپر عدالت سے دستخط کروا کر فریقین اس پر متفق ہوچکے ہیں۔اب درج ذیل امور پر شرعی طور پر  راہنمائی فرمائیں کہ

1:کیا اس عقد کی بناء پر عورت خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے؟

2:کیا نماز اور روزہ کی شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے نکاح فسخ  کیا جاسکتا ہے؟

3:اس لڑکی کو مہر ملے گا یا فقط متعہ؟

4:مہر کی صورت میں کل مہر ملے گا نصف مہر؟

o

        1،2.جب باقاعدہ نکاح ہوچکا ہے تو  یہ لڑکی شرعی طور پر اس کی  بیوی ہے ۔نماز اور روزہ انتہائی اہم عبادات ہیں  لہٰذا شوہر پر  بھی  یہ لازم  ہے کہ اہتمام کے ساتھ ان کی ادائیگی کرے اور لڑکی کو چاہیے کہ رخصتی کے بعد حکمت اور نرمی کے ساتھ شوہر کو ترغیب دیتی رہے اور ساتھ ساتھ دعا بھی کرتی رہے، اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ شوہر عمل پر آجائے  گا۔البتہ اگر لڑکی کو یہ لگتا ہے کہ ان حالات میں ہم ایک دوسرے کے حقوق پورے نہیں کرسکیں گے تو وہ خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے،لیکن خلع ہونے کے لیے شوہر کی رضامندی کا پایا جانا ضروری ہے ،شوہر کی رضامندی کے بغیر شرعا خلع معتبر نہیں۔

                     3،4.اگر لڑکا خود  خلع کی بجائے رخصتی سے پہلے  طلاق دے دے تو اس عورت کے لیے نصف مہر ہوگا ،لیکن اگر باقاعدہ خلع کا معاملہ ہوتا ہے تو اس صورت میں  شوہر جس شرط پر خلع  دے ،مثلا مکمل یا کچھ حصہ چھوڑنے کی شرط،وہی معتبر ہوگی،

حوالہ جات

فی فتاوی الھندیۃ:إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله، فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك ،وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال ،كذا في الهداية.
       (الفتاوی الھندیۃ:1/488)
                                                                                                                        و فیہ أیضا:إن خالعها على مهرها فإن كانت المرأة مدخولا بها وقد قبضت مهرها يرجع الزوج عليها بمهرها، وإن لم يكن مقبوضا سقط عن الزوج جميع المهر، ولا يتبع أحدهما صاحبه بشيء وإن لم تكن مدخولا بها، فإن كانت قبضت مهرها، وهو ألف درهم رجع الزوج عليها في الاستحسان بألف، وإن لم تكن قبضت في الاستحسان، يسقط المهر عن الزوج ولا يرجع عليها بشيء.             (الفتاوی الھندیۃ:1/489)
و قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ:وأما حكم الخلع فنقول، وبالله التوفيق: يتعلق بالخلع أحكام بعضها يعم كل طلاق بائن، وبعضها يخص الخلع. أما الذي يعم كل طلاق بائن، فنذكره في بيان حكم الطلاق إن شاء الله تعالى، وأما الذي يخص الخلع؛ فالخلع لا يخلو أما إن كان بغير بدل.وأما إن كان ببدل فإن كان بغير بدل بأن قال: خالعتك، ونوى الطلاق، فحكمه أنه يقع الطلاق، ولا يسقط شيء من المهر، وإن كان ببدل فإن كان البدل هو المهر بأن خلعها على المهر، فحكمه أن المهر إن كان غير مقبوض أنه يسقط المهر عن الزوج، وتسقط عنه النفقة الماضية، وإن كان مقبوضا فعليها أن ترده على الزوج، وإن كان البدل مالا آخر سوى المهر فحكمه حكم سقوط كل حكم، وجب بالنكاح قبل الخلع من المهر، والنفقة الماضية، ووجوب البدل حتى لو خلعها على عبد أو على مائة درهم، ولم يذكر شيئا آخر، فله ذلك ،ثم إن كان لم يعطها المهر برئ، ولم يكن لها عليه شيء سواء كان لم يدخل بها أو كان قد دخل بها، وإن كان قد أعطاها المهر لم يرجع عليها بشيء سواء كان بعد الدخول بها أو قبل الدخول بها، وكذلك إذا بارأها على عبد أو على مائة درهم فهو مثل الخلع في جميع ما وصفنا، وهذا قول أبي حنيفة.(بدائع الصنائع:151/3)

محمد عثمان یوسف

                                                    دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

25 ربیع الثانی1 144ھ

n

مجیب

محمد عثمان یوسف

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔