021-36880325,0321-2560445

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امانت کے استعمال کا حکم
69240امانتا اور عاریة کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ایک آدمی نے کسی کے پا س امانت رکھی (یعنی دوکپڑے تھے)اور کچھ دن بعد اس نے ایک کپڑا واپس لےلیا اور دوسرا کپڑا چھوڑ کر چلاگیااور کچھ نہیں کہا۔

کیا ہم دوسرا کپڑا استعمال میں لاسکتے ہیں یا نہیں کیونکہ اس آدمی کےگھر کا پتہ اور نمبر وغیرہ بھی نہیں ہے،دو سے تین ہفتے ہوگئے،رہنمائی فرمائیں۔

اور اگر استعمال کرنا جائز ہو تواس بندے سے اجازت لینا ضروری ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کم از کم اتنے وقت تک اپنے پاس محفوظ رکھیں کہ آپ کو غالب گمان ہوجائے کہ اب وہ واپس لینے نہیں آئےگا،پھر اگر وہ نہیں آیاتو آپ اس کی طرف سے کسی غريب کو صدقہ کردیں،اگر آپ خودضرورت مند ہیں تو استعمال کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد اگر وہ آئے اور اس کا مطالبہ کرے تو آپ کے ذمہ اس کی قیمت دینا واجب ہوگااور اگر وه چھوڑ دے تو صدقہ كا ثواب اسے ملےگا۔

حوالہ جات
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی:ثم إذا عرفها، ولم يحضر صاحبها مدة التعريف، فهو بالخيار إن شاء أمسكها إلى أن يحضر صاحبها، وإن شاء تصدق بها على الفقراء، ولو أراد أن ينتفع بها فإن كان غنيا لا يجوز أن ينتفع بها عندنا..... وإذا تصدق بها على الفقراء، فإذا جاء صاحبها كان له الخيار إن شاء أمضى الصدقة ،وله ثوابها، وإن شاء ضمن الملتقط أو الفقير إن وجده؛ لأن التصدق كان موقوفا على إجازته ،وأيهما ضمن لم يرجع على صاحبه ،كما في غاصب الغاصب، وإن كان فقيرا فإن شاء تصدق بها على الفقراء، وإن شاء أنفقها على نفسه، فإذا جاء صاحبها خيره بين الأجر وبين أن يضمنها له على ما ذكرنا. (بدائع الصنائع:6/202) قال العلامۃ السغدی الحنفی رحمہ اللہ تعالی:وقال أبو حنيفة وأصحابه: يعرفها ،فإن لم يجده من يعرفها ،يتصدق بها، وإن كان فقيرا فأكلها، جاز، فإن جاء صاحبها خيره بين الضمان والأجر. (النتف :2/586)
..
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب