021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض اور حصہ شرعی کاحکم
69211میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

خالد نےاپنے ترکہ سےقرض کی ادائیگی کی وصیت کی ہے،جبکہ یہ قرض ان کےتین بھائیوں کا ہے،اور

 انہیں حصہ شرعی بھی ملناہے،توکیاان کوترکہ سےقرض کی ادائیگی بھی کی جائےگی اور حصہ شرعی بھی

دیاجائےگا یا صرف حصہ شرعی دیاجائےگا؟

o

مرحوم نےبوقت انتقال اپنی ملکیت میں جوکچھ منقولہ اورغیرمنقولہ چھوٹااوربڑاجوسازوسامان چھوڑا ہےاور

مرحوم کاوہ قرض جوکسی کےذمہ واجب الاداء ہو،یہ سب مرحوم کاترکہ ہے۔اس میں سب سےپہلےمرحوم کےکفن دفن کےمتوسط اخراجات نکالےجائیں،البتہ اگر کسی نےبطوراحسان اداکردیےہوں توپھریہ اخراجات نکالنےکی ضرورت نہیں۔اس کےبعدمرحوم کی وہ قرض اداکیاجائےجس کی ادائیگی مرحوم کےذمہ واجب ہو۔اس کےبعد اگرمرحوم نےکسی کےلیےوصیت کی ہوتوثلث مال سےادا کی جائےگی۔اس کےبعد ترکہ کی تقسیم ورثاء کی درمیان کی جائےگی۔

 صورت مسؤلہ میں میت(خالد) کے بھائیوں کوترکہ سےقرض کی ادائیگی بھی کی جائیگی اور ترکہ سےحصہ    شرعی بھی دیاجائےگا،یعنی حصہ شرعی قرض کی ادائیگی سےمانع نہیں ہے۔  

حوالہ جات

الاختيار لتعليل المختار (5/ 85) يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ودفنه على قدرها ثم تقضى ديونه، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ماله، ثم يقسم الباقي بين ورثته۔ سراجی(1/3) قال علماءنارحمہم اللہ تعالی:تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃمرتبۃ: الاول يبدأ بتکفینہ وتجهيزه من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ،ثم تنفذ وصایاہ من ثلث مابقی بعد الدین،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔