021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف مواقع پر ایڈوانس مبارکباد دینا
70368جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ

         آج کل شوشل میڈیاپر یہ بات بہت پھیل رہی ہے کہ کسی بھی مبارک وقت کے آنے سے پہلے اس کی ایڈوانس مبارکباد دی جاتی ہے ، مثلاً:ایڈوانس رمضان مبارک ،ایڈوانس عید مبارک ،ایڈوانس جمعہ مبارک ،ایڈوانس جشن آزادی مبارک ،ایڈوانس نیا سال مبارک وغیرذلک ،دریافت طلب امریہ ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے کسی چیز کی ایڈوانس مبارک باد دینا کیساہے؟کیاقرآن ،حدیث اورعمل صحابہ سے اس کی کوئی مثال مل سکتی ہیں، کہیں یہ بدعت کے زمرے میں تو نہیں آتا،برائے کرم اس کا مفصل مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔

o

عید کے موقع پر مبارک باد دینا ثابت ہے،مگر ایڈانس مبارک باد دینا اورعیدکے علاوہ سوال میں مذکور مواقع پر مبارک باد  دینا یا ایڈوانس مبارک باد دینا قرآن ،حدیث اورسلف صالحین سے ثابت نہیں ،لہذاان مواقع پراگر کوئی سنت سمجھ کر مبارک باددے گا یا اس پر سنت کی طرح التزام کرے گااورنہ کرنے والے پرملامت کرے گا توپھر یہ جائز نہیں ہوگا،  لیکن اگرکوئی  سنت سمجھے اورالتزام کئے بغیر  ان مواقع پر مبارک باد دیتاہے تو فی نفسہ اس میں کوئی حرج نہیں،کیونکہ  یہ برکت کی ایک دعاء ہے اوراس کا تعلق رسم وراج سےہے، دین سے نہیں ، تاہم پھر بھی بہتر یہ ہےکہ اس طرح کی چیزوں میں وقت صرف کرنے کی بجائے جو اعمال اس مبارک موقع پرثابت ہوں ان کااہتمام کیاجائے،جیسےجمعہ کے موقع پر نمازِ جمعہ اور خطبہ جمعہ میں خوب اہتمام وآداب کے ساتھ شرکت کرنا، درود شریف کی کثرت اور سورہ کہف کی تلاوت وغیرہ وغیرہ۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:
"قوله: (لا تنكر): خبر قوله والتهنئة، وإنما قال كذلك لأنه لم يحفظ فيها شيء عن أبي حنيفة وأصحابه، وذكر في القنية أنه لم ينقل عن أصحابنا كراهة، وعن مالك أنه كرهها، وعن الأوزاعي أنها بدعة، وقال المحقق ابن أمير حاج: بل الأشبه أنها جائزة مستحبة في الجملة، ثم ساق آثارا بأسانيد صحيحة عن الصحابة في فعل ذلك. ثم قال: والمتعامل في البلاد الشامية والمصرية عيد مبارك عليك ونحوه، وقال يمكن أن يلحق بذلك في المشروعية والاستحباب؛ لما بينهما من التلازم؛ فإن من قبلت طاعته في زمان كان ذلك الزمان عليه مباركا، على أنه قد ورد الدعاء بالبركة في أمور شتى، فيؤخذ منه استحباب الدعاء بها هنا أيضا." (رد المحتار)
والمتعارف في البلاد الشامية والمصرية عيد مبارك عليك ونحوه .وقال ويمكن أن يلحق بذالك في المشروعية والاستحباب. (شامي 557/.طحطاوی على المراقي 530 ۔الفواکہ الدوانی 322/1)
عن محمد بن زيد قال كنت مع أبي امامة الباهلي وغيره من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فكانوا إذا رجعوا من العيد يقول بعضهم لبعض: تقبل الله منا ومنك..قال أحمد إسناد حديث أبي امامة جيد. (المغني لابن قدامة 399/2..كشاف القناع 60/2)
لابأس أن يقول الرجل للرجل يوم العيد تقبل الله منا ومنك .وقال حرب سئل أحمد عن قول الناس في العيدين تقبل الله منا ومنك .قال لابأس به.يرويه أهل الشام عن أبي امامة. (المغنی 399/2 )

 سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

  6/3/1442ھ     

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔