021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایف ایکس فارمس انٹرنیشنل کمپنی (Fxfarms) میں انویسٹ کرنا
70656مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک انٹرنیشنل کمپنی ہے جو ایف ایکس فارمس (Fxfarms) کے نام سے ہےاور پانچ ممالک میں اس کی  برانچ ہیں ( برطانیہ،امریکہ،ہانگ کانگ،گریس،اسپین) اور ہر withdraw میں ٪9 ٹیکس ادا کرتی ہیں۔ یہ کمپنی آنلائن (online)ٹریڈنگ (کرنسی کی خریدوفروخت) کرتی ہے یعنی زیادہ تر کرنسی کی خریدوفروخت کرتی ہےاور تھوڑا بہت گولڈ،سلور اور گاڑیوں وغیرہ کی خریدوفروخت کرتی ہے یہ کمپنی ہم سے پیسے لے لیتی ہے اور ایک معین وقت کے لئے بند کردیتی ہے اور اس سے پہلے نہیں نکال سکتے . یہ کمپنی ہمارے پیسوں سے ٹریڈنگ کا کام کرتی ہے اور یہ کام باقاعدہ اپنے پلے سٹور اپلیکیشن(meta trader 5) پر براہ راست دکھاتی ہے کہ کیا خریدا اور کیا بیچا اور کتنے کا خریدا اور کتنے کا بیچا،اور اس پیسوں سے جو نفع ہوتا ہے کمپنی اسکا ہمیں فیصد ( percentage) کے اعتبار سے نفع دیتی ہے اور کمپنی کے قوانین(terms and condition) میں ہے کہ نفع کی کوئی گارنٹی نہیں اور جس دن نفع نہیں ہوتا اس دن کا نفع نہیں مل سکتا اور اگر بالفرض کمپنی کو نقصان ہوجائے تو تمام ممبرز کمپنی کے ساتھ نقصان کو تسلیم کریں گے۔

 اب میں اس کمپنی کے دو پیکج (plan) اپ حضرات کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:

 1-اس پیکج کا نام "Base" ہے اس پیکج میں 25 سے 1500 ڈالرز تک خرچ کئے جاسکتے ہیں اب جتنے ڈالرز خرچ کئے جائیں کمپنی اس خرچ شدہ ڈالرز کے مقدار کی 1.5 فیصد روزانہ (ہفتہ،اتوار کے علاوہ) 140 دن تک نفع کمائی سے دیتی ہیں اور 140 دن پورا ہونے کے بعد اپنے خرچ شدہ ڈالرز سے 50 فیصد کاٹ لیتی ہے مثلاً میں نے اس پیکج میں 200 ڈالرز خرچ کئے تو اب اسکا 1.5 فیصد(3 ڈالرز) نفع مجھے روزانہ (ہفتہ،اتوار کے علاوہ) 140 دن تک ملے گا اور آخر میں خرچ شدہ ڈالرز کا آدھا بھی مل جائے گا تو اس حساب سے مجھے آخر تک 520 ڈالرز ( خرچ شدہ سمیت) مل جائیں گے ۔

2۔: اس پیکج کا نام "AIBOTS" ہے اس پیکج میں 1000 سے 45000 ڈالرز تک خرچ کئے جاسکتے ہیں اب جتنے ڈالرز خرچ کئے جائیں کمپنی اس خرچ شدہ ڈالرز کے مقدار کی 1.6-1.9 فیصد روزانہ ( ہفتہ،اتوار کے علاوہ) 120 دن تک نفع کمائی سے دیتی ہےاور 120 دن پورا ہونے کے بعد اپنے خرچ شدہ ڈالرز پورے واپس دیتی ہے مثلاً میں نے اس پیکج میں 1000 ڈالرز خرچ کئے تو اب اسکا 1.6-1.9 (16$سے 19$) نفع مجھے روزانہ (ہفتہ،اتوار کے علاوہ) 120 دن تک ملے گا اور آخر میں جمع شدہ ڈالرز بھی پورے مل جائیں گے تو اس حساب سے مجھے آخر تک 1920$ سے 2280$ ( خرچ شدہ کے علاوہ )مل جائیں گے ۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسے کمپنی میں پیسے خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا دونوں پیکج کا حکم ایک ہے یا الگ؟

o

مذکورہ کمپنی میں پیسےلگاناجائزنہیں ہیں،کیونکہ سوال میں جوتفصیل لکھی گئی ہے،اس کےمطابق یہ مضاربہ کی صورت بنتی ہے،لیکن مضاربت کےدرست ہونےکی جوشرائط ہیں،وہ اس کمپنی میں نہیں پائی جاتیں،اس لیےاس کمپنی میں پیسےلگاناجائزنہیں ۔

مذکورہ کمپنی میں درج ذیل شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں:

۱۔اس کمپنی میں اصل راس المال ہمیشہ محفوظ اورمضمون رہتاہےاورکسٹمرکوواپس ملتاہے،مثلایہ کہاکہ 200ڈالرخرچ کیےتو200کوساتھ ملاکر ٹوٹل  520 ڈالڑ انویسٹ کرنےوالےکومل جائیں گے،جبکہ مضاربہ کےلیےضروری ہےکہ اصل رأس المال(guaranteed)محفوظ نہ ہو،ورنہ مضاربہ فاسدہوجاتاہے۔

۲۔سوال میں لکھاگیاہےکہ کمپنی نفع فیصدکےطورپردیتی ہے،مثال سےواضح ہوتاہےکہ یہ نفع اصل سرمایہ کےفیصدی حصہ کےمطابق ملتاہےمثلا 200ڈالڑ جوکہ انویسٹ کیےتھے،اس کاکچھ فیصدحصہ پہلےپیکج میں 3ڈالڑاوردوسرےپیکج میں 16سے19ڈالرنفع کےطورپردیتےہیں اوریہ رقم دونوں پیکجزمیں الگ الگ متعین ہے،جبکہ اس طرح کےمعاملات (شرکت یامضاربت )کےصحیح ہونےکےلیےبنیادی شرط یہ ہےکہ جتنانفع ہو،اس کوفیصدکےاعتبارسےتقسیم کیاجائے۔موجودہ کمپنی میں اس طرح کی تفصیل مذکورنہیں،سرمایہ کاکچھ  فیصدحصہ نفع کےلیےلازمی طورپرمتعین کیاگیاہےیہ شرعاجائزنہیں،اس طرح کی شرط لگانےسےمضاربت فاسد ہوجاتی ہے۔

۳۔سوال میں لکھاگیاہےکہ"بالفرض کمپنی کو نقصان ہوجائے تو تمام ممبرز کمپنی کے ساتھ نقصان کو تسلیم کریں گے"جبکہ دونوں پیکجزمیں نقصان کی کوئی تفصیل ذکرنہیں کی گئی،کسی بھی کاروبارکےجائزہونےکےلیےضروری ہےکہ اس کاروبارمیں نفع اورنقصان دونوں کااحتمال ہو،جبکہ مذکورہ کمپنی میں بہرصورت نفع کی تقسیم ہے۔نقصان ہونےکاامکان ہےہی نہیں،کیونکہ انویسٹرکونفع بھی ملتاہےاوراصل راس المال بھی مل جاتاہے۔

مذکورہ بالاشرعی خرابیوں کی وجہ سےاس کمپنی میں انویسٹ کرناجائزنہیں،نیزاس قسم کی کمپنیاں درحقیقت پونزی اسکیم(Ponzi scheme)کےتحت چلتی ہیں،جن کامقصدحقیقی کاروبار ہوتاہی نہیں ہے،لہذااس قسم کی کمپنیوں میں پیسےضائع کرنےسےاحترازلازم ہے۔

حوالہ جات

"  مجلة الأحكام العدلية " 272،276:
المادة (1411):يشترط في المضاربة أن يكون رأس المال معلوما كشركة العقد أيضا وتعيين حصة العاقدين من الربح جزءا شائعا كالنصف والثلث ولكن إذا ذكرت الشركة على الإطلاق بأن قيل مثلا " الربح مشترك بيننا " يصرف إلى المساواة۔
المادة (1412): إذا فقد شرط من الشروط المذكورة آنفا بأن لم تعين مثلا حصة العاقدين جزءا شائعا بل قطعت وعينت على أن يعطي أحدهما كذا درهما من الربح تفسد المضاربة۔
 (المادة 1428): يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما فلا يعتبر ذلك الشرط۔
"الدر المختار للحصفكي " 8 /  418:
ومن شرطها كون نصيب المضارب من الربح، حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت،وفي الجلالية: كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه  يفسدها، وإلا بطل الشرط۔
"رد المحتار 23 / 348:
( وكون الربح بينهما شائعا ) فلو عين قدرا فسدت ( وكون نصيب كل منهما معلوما ) عند العقد ۔
ومن شروطها : كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت ، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها ، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة۔
"مجلة مجمع الفقه الإسلامي" 4 /  1442:
إن طبيعة المضاربة أو المقارضة تقتضي أن لا يضمن لأحد من الفريقين برأس المال ولا بالربح ، فإن ما يحصل لهما ليس فائدة ربوية ، وإنما هو ربح تجاري ، والربح التجاري إنما يستحق من جهة تحمل الأخطار ، فإذا كان رأس المال مضمونا لرب المال ، خرج العقد عن طبيعة المضاربة. وبما أن القيمة الاسمية للسندات في الصيغة الأردنية مضمونة لحامليها ، فإن هذا الشرط لا يوافق المضاربة المعهودة في الشريعة الإسلامية۔
"تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي" 5/54 ط)
" (قوله في المتن ويكون الربح بينهما مشاعا) قال الأتقاني وذلك؛ لأن المقصود من عقد المضاربة هو الشركة في الربح فإذا اشترط لأحدهما دراهم مسماة كالمائة ونحوها تفسد المضاربة؛ لأن شرط ذلك يفضي إلى قطع الشركة؛ لأنه ربما لا يكون الربح إلا ذلك القدر فلا يبقى للآخر شيء من الربح قال شمس الأئمة البيهقي في الكفاية شرطه أن يكون قدرا معلوما مشاعا من كل الربح مثل الثلث والربع فإذا شرط لأحدهما مائة من الربح مثلا أو مائة مع الثلث أو الثلث إلا مائة والباقي للآخر لم تجز المضاربة؛ لأنه يؤدي إلى قطع الشركة في الربح لجواز أن لا يربح إلا ذلك القدر"

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

06/ربیع الثانی 1442 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔