03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جھوٹ بول کر حاصل کیے گئے نفع کا حکم
70997جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

جھوٹ بول کر کسی سے کوئی فائدہ اٹھانا،تجارت میں نفع کمانا،یا جھوٹ بول کرکسی کا نمبر لینا اور پھر اس سے کوئی فائدحاصل کرنا،ان سب کا کیا حکم ہے؟نیز یہ بتائیں کہ اس صورت میں صرف جھوٹ کا گناہ ہوگا یا وہ مال اور فائدہ بھی ناجائز ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جھوٹ بولنا گناہ ہے اور جھوٹ بول کر ، گاہک کو دھوکا دے کر نفع کمانا بھی جائز نہیں ہے، جتنا نفع جھوٹ اور دھوکے سے حاصل ہو وہ حلال بھی نہیں ہے۔ مثلا کسی چیز پر پچاس روپے تک نفع لیا جاتا ہے ، اس پر جھوٹ کے ذریعہ ساٹھ تک نفع لیا گیا، تو یہ دس روپے جو اضافی جھوٹ کے ذریعے لیے گئے ہیں ، ناجائز ہیں۔ ہر گاہک کو قیمت بناناضروری نہیں ہے، قیمت خرید بتائے بغیر بائع ( فروخت کرنے والا ) جتنا بھی مناسب نفع رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے، باہمی رضامندی سے جس قیمت پر سودا ہو جائے وہ جائز ہے .
اور اگر کوئی گاہک قیمت خرید بتانے پر اصرار کرے تو اسے بجائے یوں کہنے کے ” میں نے اتنے میں خریدا ہے“ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ” مجھے اتنے میں پڑا ہے ، اور اس صورت اصل قیمت خرید کے ساتھ ان اشیاء کے لانے کا کرایہ ، دکان کا کرایہ وغیرہ دیگر اخراجات شامل کر کے جو اس کی قیمت بن رہی ہو وہ بیان کی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين 5/ 135:

"(ويضم) البائع (إلى رأس المال) (أجر القصار والصبغ) ... (ويقول: قام علي بكذا، ولايقول:اشتريته)؛ لأنه كذب، وكذا إذا قوم الموروث ونحوه أو باع برقمه لو صادقا في الرقم فتح".

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام 1/ 124:

"(المادة 153) الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقاً للقيمة الحقيقية أو ناقصاً عنها أو زائداً عليه.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

26/جمادی الاولی1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب