021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تجھے طلاق ہے اورمجھے تمہاری بیٹی نہیں چاہیے سے طلاق کا حکم
73547طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

مسمّی سعید الرحمن ولد قاسم محمود کانکاح مریم بنت محمدظاہرسے ہوا تھا،اوررخصتی نہیں ہوئی تھی،نکاح کے کچھ عرصے کے بعد سعید الرحمن نے مریم  کو میسج کیا کہ "تم مجھ پر طلاق ہو یا میری طرف سے تجھے طلاق ہے "یہ میسج مریم کے بھائی ،اس کے ماموں اوراس کی والدہ نے بھی دیکھا ہے،اس کے کچھ عرصے کے بعد سعید الرحمن نے اپنے سالے اورسسر کو الگ الگ میسج میں لکھا کہ" مجھے تمہاری لڑکی نہیں چاہئے،میں اس سے شادی نہیں کرسکتا"یہ نکاح میری مرضی کے بغیرمیرے والد نے  کیاتھا۔

مذکورہ بالاصورتِ حال میں مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :

١۔ کیامریم کو طلاق ہوگئی ہے یانہیں؟ اگر طلاق ہوگئی ہے تو کتنی؟نیز اس طلاق سے نکاح ختم ہوگیا ہے یا برقرارہے؟

۲۔ مریم کا مہر پانچ تولہ سونا مقررہوا تھا ،طلاق کی صورت میں کتنا مہر واجب ہوگا؟

۳۔ خود لڑکی،اس کابھائی ،اس کاماموں اوراس کی والدہ  یہ چاروں اس بات کوحلفیہ  بیان کرتے ہیں کہ لڑکے نے طلاق کا میسج کیا تھا اورہم نے خود دیکھاہے۔اب اگربالفرض لڑکا مکر جائےاوریہ کہے کہ میں نے طلاق کے مذکورہ الفاظ نہیں لکھےتو اس صورت میں لڑکی کے گھروالوں کو کیاکرناچاہیے ؟کیا لڑکے کی بات مان لیں یا طلاق کاحکم معتبرہوگا؟

۴۔ اس صورت میں لڑکی  کا نکاح اس کے گھر والے کہیں اورکرسکتے ہیں یانہیں؟

o

﴿١﴾ چونکہ لڑکی (مریم) غیر مدخول بہاہے اورسائل نے زبانی فون پر بتایاکہ مذکورلڑکا اورلڑکی کےدرمیان کسی قسم کی خلوتِ صحیحہ اورغیر صحیحہ بھی نہیں ہوئی ہے،لہذامیسج میں لکھے ہوئے الفاظ میں سے "تم مجھ پر طلاق ہویا  میر ی طرف سے تجھے طلاق ہے" سےمریم پرایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہےاورمریم کا نکاح سعید الرحمن سےختم ہوگیا ہے،اوراس پر عدت بھی نہیں ہے ،لہذامریم چونکہ طلاق کا محل نہیں رہی، لہذاساس اورپھرسسرکو لکھے ہوئے اس جملے "مجھے تمہاری بیٹی نہیں چاہیے"سےکوئی طلاق نہیں ہوئی، نیزاس جملے "مجھے تمہاری بیٹی نہیں چاہیے"سے ویسے بھی فقہاء کے راجح قول کے مطابق طلاق نہیں ہوتی،لہذا مسئولہ صورت میں مریم پرصرف ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے،اوروہ سعید الرحمن کی نکاح سے نکل چکی ہے ،اگرشوہرسعید الرحمن دوبارہ مریم سے نکاح کرناچاہتاہےتو یہ دونوں باہمی رضامندی سے،گواہوں کی موجودگی میں، نئے مہر کےساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں،تاہم آئندہ سعید الرحمن کو دو طلاقوں کا اختیار  ہوگا۔

﴿۲﴾۔ صورت ِ مسئولہ میں چونکہ دخول اورخلوت سے پہلے طلاق ہوئی ہے،لہذاشریعت کی رو سے مقررکردہ مہر کا نصف واجب ہوگا۔

(۳)۔بالفرض اگرسعید الرحمن  اپنی بات سے مکر جائے اوریہ کہے کہ میں نےطلاق کے الفاظ نہیں لکھے تو پھرچونکہ میاں بیوی  میں طلاق کے حوالے سے اختلاف ہوجائےگا،اس لیےکہ شوہرطلاق کےالفاظ سےانکار کررہاہوگا اور بیوی اقرارکرتی ہوگی،لہذا اب شرعی حکم یہ ہوگاکہ بیوی مریم کو گواہ پیش کرناہونگے ورنہ شوہر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی اورمسئولہ صورت میں بقول سائل چونکہ مریم کے پاس گواہ  ہیں ،لہذا اس کی بات کا اعتبار ہوگا اورایک طلاقِ بائن  واقع سمجھی جائے گی۔

﴿4﴾۔جی ہاں کرسکتے ہیں،اس لیے کہاگرشوہرسعید الرحمن طلاق کے مذکورہ الفاظ کا اقرارکرتاہےتو ظاہر ہےکہ پھرتو طلاق بائن ہوچکی ہے اورعدت نہ ہونے کی وجہ سےمریم اجنبیہ بن چکی ہےلہذاس کے آگے  نکاح کرنے میں کوئی چیزمانع نہیں ہے اوراگرشوہرطلاق کے مذکورہ الفاظ سے انکارکرتاہے توبھی چونکہ مریم کے پاس شوہر کےالفاظ پرگواہ موجود ہیں،لہذامریم کے گھروالےاس کا نکاح آگے کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

وفی الدر المختار مع  رد المحتار - (3/286)
"(وَإِنْ فَرَّقَ) بِوَصْفٍ  أَوْ خَبَرٍ أَوْ جُمَلٍ بِعَطْفٍ أَوْ غَيْرِهِ (بَانَتْ بِالْأُولَى) لَا إلَى عِدَّةٍ (وَ) لِذَا (لَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ.
وفی الشامیة:قَوْلُهُ وَإِنْ فَرَّقَ بِوَصْفٍنَحْوِ أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً وَوَاحِدَةً، أَوْ خَبَرٍ نَحْوِأَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ، أَوْ أَجْمَلَ نَحْوُأَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ ح، وَمِثْلُهُ فِي شَرْحِ الْمُلْتَقَى.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني - (ج 6 / ص 362)
وعن أبي حنيفة رحمه الله إذا قال: لا حاجة لي فيك فليس بطلاق وإن نوى؛ لأن نفي الحاجة لا ينفي الزوجية، ولا أحكامها لأن النكاح نكاح مع عدم الحاجة فإن الإنسان قد يتزوج بمن لا حاجة له فيها.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع للكاساني - (ج 4 / ص 316)
ولو قال لا حاجة لى فيك لا يقع الطلاق وان نوى لان عدم الحاجة لا يدل على عدم الزوجية فان الانسان قد يتزوج بمن لا حاجة له إلى تزوجها فلم يكن ذلك دليلا على انتفاء النكاح فلم يكن محتملا للطلاق.
وفی  فتاوی رحیمیہ﴿ 8 /304﴾
’’مجھے نہیں  چاہئے‘‘ سے کیا طلاق واقع ہوگی؟.....(الجواب)حامداً ومصلیاً ومسلماً!صورت مسئولہ میں  طلاق واقع نہ ہوگی، ولو قال لا حاجۃ لی فیک ینوی الطلاق فلیس بطلاق(فتاویٰ عالمگیری ج۱ ص ۳۷۵ الفصل الخامس فی الکنایات)
وفی القرآن الکریم :
وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ [البقرة/237]''
وفی فتاوى قاضيخان (ج: ١  ص: ۲۰۲)
فإن كان خلا بها فلها كل المهر وإن كان ذلك قبل الخلوة كان لها نصف المهر ولا عدة عليها.
رد المحتار - (ج 10 / ص 5)
( و ) يجب ( نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة ) فلو كان نكاح على ما قيمته خمسة كان لها نصفه درهمان ونصف.
وفی الفتاوى التا تارخانية 5/116مكتبه فاروقية كوئٹہ:۔
وإذا شهد شاهدان على رجل أنه طلق امرأته ثلاثا وجحد الزوج، والمرأة ذلك فرق بينهما؛ لان الشهادة على الطلاق تقبل من غيردعوى.
وفی المبسوط للسرخسي (6/ 147)
(قال) : وإذا شهد شاهدان على رجل أنه طلق امرأته ثلاثا وجحد الزوج، والمرأة ذلك فرق بينهما؛ لأن المشهود به حرمتها عليه، والحل، والحرمة حق الله تعالى فتقبل الشهادة عليه من غير دعوى۔
الفتاوى التا تارخانية 5/116مكتبه فاروقية كوئٹہ:۔
وان شهد على طلاق اخته  قبلت شهادته،ادعت المرأة ذلك او جحدت.
جامع الترمذی ص۵۱۲
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ".
تيسير العلام شرح عمدة الحكام- للبسام (2/ 177)
البينة على المدعي واليمين على من أنكر، هي القاعدة الإسلامية في الخصومات، وهي من فصل الخطاب المشار إليه في قوله تعالى {وآتيناه الحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ}. ثبوت الحق بالشاهدين فإن لم توجد البينة عند المدعِي، فعلى المدعى  عليه باليمين.
وفی التفسیر الطبری (424)
حدثنا علي، قال: ثنا عبد الله، قال: ثني معاوية، عن علي، عن ابن عباس قوله ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَافهذا في الرجل يتزوج المرأة، ثم يطلقها من قبل أن يمسها، فإذا طلقها واحدة بانت منه، ولا عدة عليها تتزوج من شاءت، ثم قرأ ( فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلايقول: إن كان سمى لها صداقا، فليس لها إلا النصف، فإن لم يكن سمى لها صداقا، متعها على قدر عسره ويسره، وهو السراح الجميل.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

29/12/1442ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔