021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مالک کی اجازت کے بغیر چھاپی گئی کتابوں کی خریداری کا حکم
75558خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

بعض کتابوں کی طباعت کی اجازت مصنف کی طرف سے نہیں ہوتی حتی کہ بعض تو مصورہ کی اجازت بھی نہیں دیتے، اس کے باوجود مارکیٹ میں چھپ جاتی ہیں، کیا یہ کتابیں خریدنا جائز ہے؟ نیز مصنف صاحب کی شرعی کتابوں کے چھاپنے پر اتنی سختی کے ساتھ پابندی لگانے کا شرعاً کوئی اعتبار ہے کہ نہیں؟

o

موجودہ  زمانے کے  اکثر فقہاء اور علماء نے حق طباعت اور حق اشاعت کو ایسے حقوق میں سے  مانا ہے جن کو شریعت بھی  حق تسلیم کرتی ہے۔  ان حقوق کو  شریعت اسلامیہ اس بنیاد پر تسلیم کرتی ہے کہ جس شخص نے اس چیز کی ایجاد و تصنیف میں سبقت کی ہے  اس شخص کو اس چیز   پر حق اسبقیت  حاصل ہوا ہے جو کہ شریعت میں ایک معتبر حق ہے۔ پھر حق طباعت اور حق اشاعت کو حقوق تسلیم کرنے  کی ایک  وجہ یہ بھی  ہے کہ  حق طباعت آج کل عرف کی بنا پر  ایک  ایسا قانونی حق  بن چکا ہے جس کی  باقاعدہ  رجسٹریشن   ہوتی ہے اور اب یہ اعیان و اموال کے درجہ میں  ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس کی خرید و فروخت بھی شرعاً درست ہوتی  ہے ۔

لہذا  کتاب کے مصنف  یا ناشر میں سے جس کے لئے یہ حق ثابت ہو تو وہ اس   کا  مالک  ہوتا ہے اور مالک کے لئے اپنی ملکیت   میں ہر  قسم کی پابندی لگانا شرعاً معتبر ہے ۔ اس کے علاوہ ملکی قانون بھی ان کے اس حق کی حفاظت کرتا ہے۔ چنانچہ  مصنف یا ناشر کی اجازت کے بغیر  ان کی کتابوں  کو چھاپنا ، اور اسی طرح بلا اجازت چھپی ہوئی ان کتابوں کو بازار سے خریدنا   مصنفین اور مؤلفین کے فکری اور مادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے  اور اسی   وجہ سے شرعاً و قانوناً دونوں طرح جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی نے خرید لی ہوں تو خرید شدہ کتب کو ضائع کر نے کے بجائے ان کا استعمال کیا جائے ۔

حوالہ جات

سنن أبي داود(4/ 679 ت الأرنؤوط):
عن أمها عقيلة بنت أسمر بن مضرس عن أبيها أسمر بن مضرس، قال: أتيت النبي - صلى الله عليه وسلم - فبايعته، فقال: "‌من ‌سبق إلى ما لم يسبقه إليه مسلم فهو له".
سنن الدارقطني :(3/ 424)
عن أنس بن مالك، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ ‌مسلم ‌إلا ‌بطيب ‌نفسه"
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(6/ 263)
فنقول للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء سواء كان تصرفا يتعدى ضرره إلى غيره أو لا يتعدى.
فتح القدير للكمال ابن الهمام وتكملته ط الحلبي :(7/ 326)
‌أن ‌القياس ‌في ‌جنس ‌هذه ‌المسائل أن يفعل صاحب الملك ما بدا له مطلقا لأنه يتصرف في خالص ملكه وإن كان يلحق الضرر بغيره، لكن يترك القياس في موضع يتعدى ضرره إلى غيره ضررا فاحشا كما تقدم وهو المراد بالبين فيما ذكر الصدر الشهيد وهو ما يكون سببا للهدم وما يوهن البناء سبب له أو يخرج عن الانتفاع بالكلية وهو ما يمنع من الحوائج الأصلية كسد الضوء بالكلية على ما ذكر في الفرق المتقدم واختاروا الفتوى عليه.
قرارات وتوصيات مجمع الفقه الإسلامي الدولي  : (149)
إنَّ مجلس مجمع الفقه الإسلامي المنعقد في دورة مؤتمره الخامس بالكويت ، من 1 إلى 6 جمادى الأولى 1409هـ ( الموافق 10 إلى 15 كانون الأول (ديسمبر) 1988م ، بعد اطلاعه على البحوث المقدَّمة من الأعضاء والخبراء في موضوع ( الحقوق المعنوية ) ، واستماعه للمناقشات التي دارت حوله ، قرَّر ما يلي :      
أولاً : الاسم التجاري ، والعنوان التجاري ، والعلامة التجارية ، والتأليف والاختراع أو الابتكار هي حقوق خاصَّةٌ لأصحابها ، أصبح لها في العرف المعاصر قيمة مالية معتبرة لتموُّل الناس لها، وهذه الحقوق يعتدُّ بها شرعاً ، فلا يجوز الاعتداء عليها. 
ثانياً : يجوز التصرُّف في الاسم التجاري أو العنوان التجاري أو العلامة التجارية ، ونقل أيٍّ منها بعوض ماليٍّ إذا انتفى الغرر والتدليس والغش ، باعتبار أنَّ ذلك أصبح حقَّاً ماليّاً.
ثالثاً : حقوق التأليف والاختراع أو الابتكار مصونة شرعاً ، ولأصحابها حقُّ التصرُّف فيها ، ولا يجوز الاعتداء عليها ، والله أعلم " انتهى

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

١٨،  جمادی الثانی  ۱۴۴۳ ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔