021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نمونہ کی بنیادپرفروخت کرنےکا حکم
78932خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔

ہم فش میل ( مچھلی کا سفوف ) بناتے ہیں جو مرغی دانہ (فیڈ) کا ایک جزء ہوتا ہے، پھر ہم مختلف کمپنیوں کو یہ سفوف فروخت کرتے ہیں جو کمپنی فیڈ بنانے میں استعمال کرتی ہے۔ کمپنیاں ہم سے معاملہ اس طرح کرتی ہیں کہ وہ ہمیں پروٹین وغیرہ کا معیار بتاتی ہیں اور ہمارا مال اپنی لیبارٹری میں چیک کرتی ہیں اگر وہ معیار پر پورا اترے تو مال خرید لیتی ہیں اور معیار پر پورا نہ اترے تو واپس بھیج دیتی ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے پروٹین وغیرہ کی مقدار پوری کرنے کے لیے ہمیں مختلف اشیاء جیسے رائس پالش، سنوز (جو جانوروں کی ہڈیوں سے بنتا ہے)، اوجڑی، مرغیوں کے پر وغیرہ ملانا پڑتا ہے پھر ان سب چیزوں کو مچھلی کے سفوف میں ملا کر کمپنیوں کو دیتے ہیں اور ان کی وجہ سے پروٹین وغیرہ کا معیار اچھا ہو جاتا ہے۔ 1۔ اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ اگر ہم کمپنی سے اس طرح معاملہ کر لیں کہ ہم آپ کے مطلوبہ معیار پر فش میل فراہم کریں گے ، آپ اس کو اپنی لیبارٹری میں چیک کر کے خرید نا اگر سمجھ آئے تو لے لیناور نہ چھوڑ دینا اور ہم انہیں دیگر اشیاء کا نہ بتائیں تو یہ صورت جائز ہے ؟ 2۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ہم کمپنی کو بتادیں کہ ہم مختلف چیزیں ملا کر فش میل بنائیں گے اور آپ کو سیمپل بھیج دیتے ہیں۔ آپ چیک کر لو کہ آپ کے فیڈ کے معیار کے مطابق ہے یا نہیں، اگر معیار کے مطابق ہے تو خرید لو۔ یہ صورت جائز ہے ؟ -3۔ ہم کمپنی کو دیگر اشیاء کی ملاوٹ بتائے بغیر فش میل کے سیمپل بھیجیں اور وہ خرید لیں تو کیاایسا کرنا جائز ہے ؟

o

خریدوفروخت کےدرست ہونےکےلئےیہ ضروری ہےبیچی جانےوالی چیزکامعیاراوراوصاف نامعلوم نہ ہوں اس وضاحت کی روشنی میں مذکورہ صورت کاحکم یہ کہ اگرفش میل بنانےمیں عام طورپراوجڑی اورمرغیوں کےپروغیرہ ملائےجاتےہوں تواس کوبغیر تفصیلات بتائےفروخت کرنادرست ہےاوراگرعام طورپریہ اجزاءنہیں ملائےجاتےاورآپ ملارہےہیں توبہتریہ ہے کہ خریدارکوان اجزاءکابتادیں اوراسےدھوکہ میں نہ رکھیں لیکن اگریہ تفصیلات بتائےبغیربھی فروخت کیا جائےاورعرف میں ان چیزوں کاشامل کرنا عیب شمارنہ کیاجاتاہواورخوراک کےقانونی معیارات کےخلاف بھی نہ ہوتویہ خریدوفروخت درست ہوجائےگی۔پہلی صورت میں مشتری کوچیزمہیاکرکےیہ اختیاردیناکہ اگریہ چیزمطلوبہ معیارپرنہ اترےتوواپس کردینا اورباقی دونوں صورتوں میں خریدارکوسیمپل دیکھاکرچیزفروخت کرناجائزہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع (5/ 223)
قال عليه الصلاة والسلام ليس منا من غشنا
تبيين الحقائق (4/31)
)’’باب خيار العيب) وهو ما يخلو عنه أصل الفطرة السليمة قال - رحمه الله - (من وجد بالمبيع عيبا أخذه بكل الثمن أو رده)؛ لأن مطلق العقد يقتضي السلامة من العيب فكانت السلامة كالمشروطة في العقد صريحا لكونها مطلوبة عادة فعند فواتها يتخير كي لا يتضرر بإلزام ما لا يرضى به كما إذا فات الوصف المرغوب فيه المشروط في العقد كمن اشترى عبدا على أنه خباز أو نحوه فوجده بخلاف ذلك."
الاختيار لتعليل المختار (2/ 18)
)”مطلق البيع يقتضي سلامة المبيع) لأن الأصل هو السلامة، وهو وصف مطلوب مرغوب عادة، والمطلوب عرفا كالمشروط نصا."
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 274)
 ( المادة 325 ) ما بيع على مقتضى الأنموذج إذا ظهر دون الأنموذج يكون المشتري مخيرا إن شاء قبله وإن شاء رده مثلا الحنطة والسمن والزيت وما صنع على نسق واحد من الكرباس والجوخ وأشباهها إذا رأى المشتري أنموذجها ثم اشتراها على مقتضاه فظهرت أدنى من الأنموذج يخير المشتري حينئذ . إذا ظهر المبيع أدون من الأنموذج أو من بعض المبيع الذي رآه المشتري فالمشتري يكون مخيرا بخيار العيب فيما رآه نموذجا وفيما لم يره وله قبول المبيع بجميع الثمن المسمى أو رده وفسخ البيع ( درر غرر ) 

ولی الحسنین

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

   ۲۳  جمادی الثانیہ۱۴۴۴ھ

n

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے