021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث میں سےجس شخص کوہبہ کیاگیاہووہ میراث میں بھی حقدارہوگا
76254میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری شادی خانہ آبادی 2001ءمیں ہوئی ،میرےسسرصاحب کامطالبہ تھاکہ ایک تہائی حصہ مکان میری بیٹی کےمہرمیں دیاجائےگا،چنانچہ میرےوالدصاحب نےاپنےمملوکہ مکان میں سےایک تہائی حصہ باقاعدہ تحریری طورپرگواہان کی موجودگی میں اسٹامپ پیپرپرمیرےنام ہبہ کیا،اورپھربوقت نکاح یہی مکان کاایک تہائی حصہ مہرکے خانےمیں درج کیاگیااوراسی پہ ایجاب وقبول ہوااورپھرنکاح کےوقت سےمکان کےاس 1/3پر میری زوجہ مسماۃ کوثر کاقبضہ ہے،بعدازاں گھریلوجھگڑےکی بناءپرحصول مہرکی خاطر میری زوجہ نےایک بارڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج مانسہرہ کی عدالت میں مقدمہ بھی دائرکیا،عدالت نےزوجہ ام کایہ حق تسلیم کرتےہوئےمحکمہ مال کومکان کےایک تہائی حصہ کےزوجہ ام کےنام باقاعدہ انتقال کرنےکاحکم صادرفرمایا۔

2006ءمیں میرےوالدصاحب فوت ہوگئے،واضح رہےکہ میرےوالدمرحوم کی وفات کےبعدعدالت نےایک تہائی حصہ مکان انتقال کرنےکاحکم دیاتھا،چنانچہ مکان کایہ ایک تہائی حصہ اب میری بیوی کےنام ہےاوراس کاقبضہ ہے اس ہبہ شدہ ایک تہائی حصہ مکان کےعلاوہ بقیہ مکان میں سےسائل نےجب دیگرورثاءسےشرعی وراثت کے مطابق اپناحصہ طلب کیاتوانہوں نےبقیہ مکان میں سےسائل کووراثت کےمطابق حصہ دینےسےانکارکردیاہےاور ان کا موقف یہ ہےکہ والدصاحب مرحوم نےاپنی زندگی میں جوایک تہائی حصہ مکان تمہیں اورتمہاری بیوی کودیاتھا ، بس صرف اسی ایک تہائی حصہ پرتمہاراحق ہےبقیہ مکان میں ایک فٹ جگہ بھی تمہیں وراثت میں نہیں ملےگا۔ کیاسائل مکان کےاس ہبہ شدہ ایک تہائی حصےکےعلاوہ بقیہ مکان میں دیگرورثاءکےساتھ برابرکا شریک ہے؟

o

آپ کےوالدنےایک تہائی مکان جوآپ کوہبہ کرکےآپ کی  بیوی کومہرکی صورت میں دیا تھا،وہ آپ کی  بیوی ہی کا رہےگا،اورآپ کی بیوی کے ملکیت میں رہےگا،چناچہ اس مکان کےایک تہائی حصہ کےعلاوہ  بھی آپ وارث ہوں گے،اسی طرح  آپ اپنےوالدمرحوم کی دیگر جائیدادمیں دیگرورثاءکےساتھ اپنےحصےکےبقدروارث  ہوں گے۔

حوالہ جات

«موسوعة القواعد الفقهية» (8/ 794):
‌الإرث ‌يدخل في ملك الوارث بغير اختياره؛ لأن هذا الملك اضطراري.
«موسوعة القواعد الفقهية» (8/ 1014):
الإرث يدخل في ملك الوارث بغير اختياره؛ لأن الإرث ملك ‌إجباري ينتقل من المورث إلى الوارث بمجرد موت المورث، ولو رفض الوارث الميراث لا يعتبر رفضه
«موسوعة القواعد الفقهية» (8/ 1084):
‌الإرث ‌يدخل في ملك الوارث بغير اختياره أو رضاه؛ لأن الإرث خلافه، فلا يحتاج للقبول والاختيار، بل يثبت جبرا من الشارع.
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (7/ 228):
‌لأن ‌الإرث ليس من لوازم النسب فإن لحرمان الإرث أسبابا لا تقدح في النسب من القتل والرق واختلاف الدين والدار
«لسان الحكام» (ص236):
وفي جامع الفتاوى ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منه أو من حصتي لا يصح وهو على حقه ‌لأن ‌الإرث جبري لا يصح تركه

عبدالقدوس

دارالافتاء،جامعۃ الرشیدکراچی

۲شعبان ۱۴۴۳

n

مجیب

عبدالقدوس بن محمد حنیف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے