| 82908 | طلاق کے احکام | عدت کا بیان |
سوال
اگر شوہر نامرد ہو، یعنی ہمبستری پر قادر نہ ہو تو کیا طلاق کی صورت میں عورت پر عدت لازم ہوگی یا نہیں ؟ اور اگر ہو گی تو کتنی ہو گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر شوہر نامرد ہو، یعنی ہمبستری پر قادر نہ ہو تو چونکہ یہ مخفی امر ہے لہذا تنہائی مین ملاقات کو کافی سمجھا جائے گا اور شرعاً عورت پر عدت لازم ہوگی ۔ اگر عورت کو ماہواری آتی ہو تو تین ماہواری عدت ہو گی اور اگر کسی وجہ سے ماہواری نہ آتی ہو تو تین ماہ عدت گزارنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ عثمان بن علي الزيلعي رحمہ اللہ: قوله:( وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة) أي ؛لأن خلوة العنين صحيحة إذ لا وقوف على حقيقة العنة؛ لجواز أن يمتنع من الوطء اختيارا تعنتا، فيدور الحكم على سلامة الآلة.(تبیین الحقائق:3/23)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: ولو وجدته، عنيناوهو من لا يصل إلى النساء لمرض أو كبر، أو سحر...فإن وطئ مرة فبها وإلا بانت بالتفريق من القاضي إن أبى طلاقها بطلبها.
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:قوله:( و إلا بانت بالتفريق) ؛لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة، فكانت بائنة ،و لها كمال المهر و عليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة.(الدرالمختار مع رد المحتار:3/496)
محمد مفاز
دارالافتاء، جامعۃ الرشید،کراچی
رجب1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مفاز بن شیرزادہ خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


