03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق رجعی کے بعد عدت کے دوران رجوع میں اختلاف کا حکم
88817طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میری شادی ایک شخص سے 2024ء میں شادی ہوئی، جون 2025ء میں میرے شوہر نے مجھے ایک طلاق دی، جس کا طلاق نامہ ساتھ منسلک ہے، طلاق کو تقریبا چار ماہ گزر چکے ہیں، شوہر نے ابھی تک رجوع نہیں کیا، نہ طلاق کے بعد ہمارے درمیان کوئی تعلقات قائم ہوئے، سوال یہ ہے کہ کیا میری عدت ختم ہو گئی ہے؟ کیونکہ طلاق کے بعد مجھے چار حیض آچکے ہیں۔

شوہر کا بیان: شوہر نے فون پر بتایا کہ میں زبان سے رجوع کر چکا ہوں اور میں نے بیو ی کا بوسہ بھی لیا تھا، جبکہ ابھی طلاق کودس دن ہوئے تھے۔

بیوی کا بیان: سائلہ نے فون پر بتایا کہ میں حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ عدت کے دوران  ایسا کچھ نہیں ہوا تھا، شوہر نے میرے سامنے نہ رجوع کیا ہے اور نہ ہی بوسہ لیا ہے، اگر ایسا ہے تو شوہر اپنے دعوی پر گواہ لائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِ تمہید دو باتیں جاننا ضروری ہیں:

پہلی بات: مفتی غیب نہیں جانتا، بلکہ وہ سائل/سائلہ کے سوال میں ذکر کیے گئے بیان کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، لہذا اگر کوئی سائل غلط بیانی  کرکےاپنے مقصد کا فتوی لے لے تو اس کا گناہ سائل کو ہو گا، مفتی پر اس کی کوئی ذمہ داری عائد نہ ہو گی، یہ بھی یاد رہے کہ جھوٹ بول کرفتوی لینے سے کوئی حلال چیز حرام نہیں ہوتی اور نہ حرام حلال ہوتی ہے۔

دوسری بات: فقہائے کرام رحمہم اللہ نے شوہر کے عدت کے دوران رجوع کرنے پر گواہ بنانے کو مستحب قرار دیا ہے اور اگر عورت رجوع کی مجلس میں موجود نہ ہو تو عورت کو رجوع کے بارے میں مطلع کرنے کو بھی ضروری قراردیا ہے،  تاکہ عورت اپنے گمان کے مطابق عدت گزار کر کہیں اورنکاح نہ کرلے، لیکن اگر وہ بیوی کو رجوع کی اطلاع نہیں دیتا تو اس کی چند صورتیں ہیں:

1۔ اگر عدت کے اندر شوہر رجوع کا دعوی کرتا ہے تو اس کی بات کا اعتبار ہوگا، چاہے بیوی رجوع کی تصدیق کرے یا اس کا انکار کرے۔

2۔ اگر شوہر عدت گزر جانے کے بعد رجوع کا دعوی کرتا ہے اور بیوی اس کی تصدیق کرتی ہے تو شوہر کی بات معتبر ہو گی اور رجوع درست شمار ہو گا۔

3۔ اگر شوہر عدت گزر جانے کے بعد رجوع کا دعوی کرےاوربیوی انکار کرے تو ایسی صورت میں  اگر شوہر رجوع پر گواہ پیش کردے تو  بھی شوہر کی بات کا اعتبار ہوگا۔

4۔ اگر شوہر عدت گزر جانے کے بعد رجوع کا دعوی کرےاوربیوی انکار کرے اور شوہر کے پاس اپنے دعوی پر گواہ نہ ہوں تو ایسے اختلاف کی صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے "المرٲة کالقاضی" کااصول بیان فرمایا ہے: یعنی عورت کا حکم قاضی کی طرح ہے، مطلب یہ کہ جس طرح قاضی مدعی اور مدعی علیہ کی ظاہری صورتِ حال کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوتا ہے، اسی طرح عورت  پربھی خاوند کی ظاہری صورتِ حال کے مطابق عمل کرنا لازم ہے، کیونکہ جب فریقین کا وقوعِ طلاق پر اتفاق ہے تو اس کے بعد شوہر كا رجوع کا دعوی كرنا "الأصل بقاء ماکان علی ما کان" كے اصول كے تحت خلافِ ظاہر ہے اس لیے شوہر کے ذمہ اپنے دعوی پر گواہ پیش کرنا ضروری ہے، لہذا اگر شوہر کے پاس اپنے دعوی پر گواہ نہ ہوں اور عورت رجوع کاانکارکرےتو ایسی صورت میں دیانتاً (فیما بینہ وبین اللہ)عورت اپنے علم کے مطابق عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

 اس تمہید کے بعد مذکورہ صورت میں سوال کے ساتھ منسلک طلاق نامہ میں شخصِ مذکور نے اپنی بیوی کو  ایک طلاق رجعی دی ہے، جس کے فوراً بعد عورت کی عدت شروع ہو جاتی ہےاوراس میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے، لیکن صورتِ مسئولہ میں شوہر کا دعوی یہ ہے کہ اس نے عدت کے دوران زبانی اور فعلی (بوسہ کےذریعہ) دونوں طرح رجوع کر لیا تھا، جبکہ عورت کا کہنا ہے کہ میں حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ عدت ختم ہونے سے پہلےشوہر نے میرے سامنے زبانی بھی رجوع نہیں کیا اور نہ اس نے فعلی رجوع یعنی بوسہ وغیرہ لیا ہے تو اس اختلاف میں تمہید میں ذکر کی گئی چوتھی صورت پر عمل کیا جائے گا، وہ یہ کہ چونکہ مرد کے پاس اپنے دعوی پر گواہ نہیں ہیں اس لیے عورت دیانتاً اپنے علم کے مطابق عمل کرنے کی پابند ہے، لہذا اگر عورت کو یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ میرے شوہر نے عدت کے دوران زبانی اور فعلی کسی طرح بھی رجوع نہیں کیا تو ایسی صورت میں طلاق کے بعد تین حیض گزرنے سے عورت کی عدت ختم ہو چکی ہے اور وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔لیکن یاد رہے کہ اگر عورت نے اس میں جھوٹ یا غلط بیانی سے کام لیا تو اس کا مکمل گناہ اسی کے سر پر ہو گا اور شرعا سابقہ نکاح ختم تصور نہیں ہو گا، بلکہ بدستور پچھلا نکاح برقرار رہنے کی وجہ سے آگے دوسرے شخص سے کیا گیا نکاح باطل شمار ہو گا۔

حوالہ جات

      الدر المختار مع رد المحتار (3/ 401 ) الناشر: دار الفكر-بيروت:

''(وندب إعلامها بها) لئلا تنكح غيره بعد العدة، فإن نكحت فرق بينهما وإن دخل، شمني. (و ندب الإشهاد) بعدلين ولو بعد الرجعة بالفعل (و) ندب (عدم دخوله بلا إذنها عليها) لتتأهب وإن قصد رجعتها لكراهتها بالفعل، كما مر. (ادعاها بعد العدة فيها) بأن قال: كنت راجعتك في عدتك (فصدقته صح) بالمصادقة (وإلا لا) يصح إجماعاً (و) كذا (لو أقام بينة بعد العدة أنه قال في عدتها: قد راجعتها، أو) أنه (قال: قد جامعتها) وتقدم قبولها على نفس اللمس والتقبيل فليحفظ (كان رجعةً)؛ لأن الثابت بالبينة كالثابت بالمعاينة، وهذا من أعجب المسائل حيث لا يثبت إقراره بإقراره بل بالبينة (كما لو قال فيها: كنت راجعتك أمس) فإنها تصح (وإن كذبته) لملكه الإنشاء في الحال''

الفتاوى الهندية (1/ 468) الناشر: دار الفكر،بيروت:

 أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.

العناية شرح الهداية (4/ 159) الناشر: دار الفكر:

[ألفاظ الرجعة] و) ألفاظ (الرجعة أن يقول راجعتك) إن كان في حضرتها (أو راجعت امرأتي) في الغيبة بشرط الإعلام أو في الحضرة أيضا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 529) دار الفكر-بيروت:

وفي جامع الفصولين أخبرها واحد بموت زوجها أو بردته، أو بتطليقها حل لها التزوج، ولو سمع من هذا الرجل آخر له أن يشهد لأنه من باب الدين فيثبت بخبر الواحد، بخلاف النكاح والنسب. أخبرها عدل أو غير عدل فأتاها بكتاب من زوجها بطلاق ولا تدري أنه كتابه، أو لا إلا أن أكبر رأيها أنه حق فلا بأس بالتزوج. اهـ.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 62) دار الكتاب الإسلامي،بيروت:

إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد، وحلف أنه لم يفعل، وردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه، ولم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا. والحاصل أنه جواب شمس الإسلام الأوزجندي ونجم الدين النسفي والسيد أبي شجاع وأبي حامد والسرخسي يحل لها أن تتزوج بزوج آخر فيما بينها وبين الله تعالى، وعلى جواب الباقين لا يحل انتهى، وفي الفتاوى السراجية إذا أخبرها ثقة أن الزوج طلقها، وهو غائب وسعها أن تعتد وتتزوج، ولم يقيده بالديانة، والله أعلم.

قال المصنف - رحمه الله - وقد نقل في القنية قبل ذلك عن شرح السرخسي ما صورته طلق امرأته ثلاثا، وغاب عنها فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد العدة ديانة ونقل آخر أنه لا يجوز في المذهب الصحيح اهـ.

قلت إنما رقم لشمس الأئمة الأوزجندي، وهو الموافق لما تقدم عنه، والقائل بأنه المذهب الصحيح العلاء الترجماني ثم رقم بعده لعمر النسفي، وقال حلف بثلاثة فظن أنه لم يحنث، وعلمت الحنث، وظنت أنها لو أخبرته ينكر اليمين فإذا غاب عنها بسبب من الأسباب فلها التحلل ديانة لا قضاء قال عمر النسفي سألت عنها السيد أبا شجاع فكتب أنه يجوز ثم سألته بعد مدة فقال إنه لا يجوز، والظاهر أنه إنما أجاب في امرأة لا يوثق بها اهـ.

كذا في شرح المنظومة، وفي البزازية شهد أن زوجها طلقها ثلاثا إن كان غائبا ساغ لها أن تتزوج بآخر، وإن كان حاضرا لا لأن الزوج إن أنكر احتيج إلى القضاء بالفرقة، ولا يجوز القضاء بها إلا بحضرة الزوج.اهـ.

وفيها سمعت بطلاق زوجها إياها ثلاثا، ولا تقدر على منعه إلا بقتله إن علمت أنه يقربها تقتله بالدواء، ولا تقتل نفسها، وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة تحلفه فإن حلف فالإثم عليه، وإن قتلته فلا شيء عليها، والبائن كالثلاث. اهـ. وفي التتارخانية. وسئل الشيخ أبو القاسم عن امرأة سمعت من زوجها أنه طلقها ثلاثا، ولا تقدر أن تمنعه نفسها هل يسعها أن تقتله في الوقت الذي يريد أن يقربها، ولا تقدر على منعه إلا بالقتل فقال لها أن تقتله، وهكذا كان فتوى الإمام شيخ الإسلام عطاء بن حمزة أبي شجاع، وكان القاضي الإمام الإسبيجابي يقول ليس لها أن تقتله، وفي الملتقط، وعليه الفتوى.

شرح القواعد الفقهية (ص: 87) الناشر: دار القلم – دمشق:

" الأصل بقاء ما كان على ما كان، حتى يقوم الدليل على خلافه " لأن الأصل إذا اعترض عليه دليل خلافه بطل.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

5/جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب