| 88775 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میری والدہ کی ہمارے بچپن میں میرے والد سےعلیحدگی ہوگئی تھی،جس کی وجہ سے ہماری والد ہ نے اکیلےہم دونوں بھائیوں کی پرورش کی،ہماری کوئی بہن نہیں ہے،1999ء میں ہم دونوں بھائیوں نے والدہ کو دوسری شادی کے لئے آمادہ کیا۔
ہمارے سوتیلے والد کی پہلی بیوی سے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں،جبکہ میری والدہ سے ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی،سوتیلے والد کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد شریعت کے مطابق ان کے ورثا میں تقسیم کردی گئی۔
میری والدہ نے تقریبا 35 سال سرکاری اسکول میں ملازمت کی اور 2012ء میں ریٹائرڈ ہوئی،ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم سے والدہ نے ایک پلاٹ خریدا ،جس پر ہم دونوں بھائیوں نے مل کر مکان تعمیر کرلیا،اب پوچھنا یہ ہے کہ میری والدہ کی وراثت میں سے میرے سوتیلے بہن بھائیوں کو حصہ ملے گا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کے مطابق سوتیلی اولاد کو وراثت میں حصہ نہیں ملتا،اس لئے مذکورہ صورت میں آپ کے سوتیلے بہن بھائیوں کو آپ کی والدہ کی میراث میں حصہ نہیں ملے گا۔
حوالہ جات
.....
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
26/ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


