| 72186 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
مبتدأہ مستحاضہ کی مسائل پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مبتدأہ بالغہ بالحیض کے مسائل کے حل کے بارے میں دو مؤقف ہیں، ایک یہ کہ استمرار دم کی صورت میں جن مسائل میں ضرورۃً حیض وطہر مقرر کیے جاتے ہیں، ان مسائل میں وہ معتادہ کی طرح ہے (یعنی اس حیض و طہر کو عادت سمجھا جائے گا اور آگے ان پر اسی عادت کے مطابق احکام لاگو ہوں گے)۔ دوسرا وہ اصل ہے جو علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے منھل الواردین میں ذکر کیا ہے۔ دوسرا مؤقف مفتی احمد ممتاز صاحب کا ہے، جبکہ پہلا موقف ایک اور مولانا صاحب کا ہے۔ ان میں سے جو موقف راجح ہو اس کی طرف راہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
محل نزاع:
استمرار دم کی صورت میں فقہاء کرام ضرورۃً جو طہر اور عادت مقرر کرتے ہیں، اس کا حکم حقیقی عادت والا ہوگا یا نہیں؟ مفتی احمد ممتاز کے نزدیک اس کے احکام معتادہ والے نہیں ہوں گے، جبکہ ایک دوسرے مولانا صاحب کے نزدیک اس کے احکام معتادہ والے ہوں گے۔
قول مختار:
ہمارے نزدیک مفتی احمد ممتاز صاحب والا مؤقف راجح ہے، جو کہ در حقیقت صاحب ذخر المتاھلین فی مسائل الحیض محمد بن پیر علی البرکوی اور علامہ شامی کی تحقیق اور مؤقف ہے۔
ذیل میں مبتدأہ مستحاضہ کے احکام کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے، اس کے بعد اختیار کردہ قول کی وجہ ترجیح لکھی گئی ہے۔
مبتدأہ مستحاضہ کے احکام کا خلاصہ:
مبتدأہ مستحاضہ کی درج ذیل صورتیں ہو سکتی ہیں، جن کی تفصیل اور احکام درج ذیل ہیں:
- دم صحیح اور طہر صحیح آئے۔
حکم: معتادہ بن جائے گی اور آئندہ کے لیے اپنی اسی عادت پر عمل کرے گی۔
- ابتدا سے استمرار۔
حکم: ہر ماہ پہلے دس دن حیض باقی بیس دن استحاضہ، ہر ماہ یہی سلسلہ جاری رہے گا۔
- دم صحیح اور طہر فاسد کے بعد استمرار۔
حکم: دم کے اعتبار سے معتادہ ہوگی، ایام عادت کے علاوہ باقی ایام طہر شمار ہوں گے۔
- دم فاسد اور طہر فاسد کے بعد استمرار۔
اس کی دو صورتیں ہیں:
- طہر ناقص ہے۔
حکم: پہلے دس دن حیض باقی بیس دن استحاضہ۔
(ب) طہر کامل ہے مگر دم فاسد کے ملنے کی وجہ سے فاسد بنا۔
اس کی دو صورتیں ہیں:
- دم و طہر تیس دن یا تیس دن سے کم ہے۔
حکم: پہلے دس دن حیض باقی بیس دن استحاضہ۔
- دم وطہر تیس دن سے زیادہ ہے
حکم: دم فاسد کے ابتدا سے دس دنتک حیض اور آگے استمرار شروع ہونے تک طہر۔ جب تک استمرار ہےیہی عادتہوگی۔
ماخذ:
مبتدأه بالغہ بالحیض کی ذکر کردہ صورتیں درج ذیل کتب سے ماخوذ ہیں اور یہی بنیادی ترتیب اور اصول ہیں۔ مبتدأه کے تمام احکام اسی ترتیب اور اصولوں کے مطابق حل کیے جائیں گے۔ نیزاس موضوع پر سب سے بہترین اور مستند کتاب محمد بن پیر علی البرکوی "ذخر المتاھلین فی مسائل الحیض" ہے، جس کی شرح علامہ شامی رحمۃاللہ علیہ نے "منھل الواردین من بحار الفیض" کے نام سے لکھی ہے۔
(1) البحر الرائق، المجلد الاول، ص 199
(2) بدائع الصنائع، الجزء الاول، ص 296-301
(3) الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید، الجزء الاول، تفصیل احکام الحیض والنفاس
(4) الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) باب الحيض (1/ 282)
(5) ذخر المتاھلین فی مسائل الحیض، محمد بن پیر علی البرکوی، ص 58-68
(6) منھل الواردین من بحار الفیض، ابن عابدین، ص 57-69
(7) خواتین کی مخصوص پاکی وناپاکی کے احکام، مفتی محمد یونس، ادارہ غفران راولپنڈی
(8) احکام حیض ونفاس واستحاضہ، مفتی احمد ممتاز، جامعہ خلفائے راشدین
(9) القول المحلل لعقدۃ الطہر المتخلل، مصنف محمد فاروق قاسمی، جامعہ دار الاحسان گجرات
وجہ ترجیح:
ذکر کردہ قول صاحب ذخر المتاھلین فی مسائل الحیض، محمد بن پیر علی البرکوی کا ہے، جس نے اپنے سے ما قبل تمام فقہاء کے ذکر کردہ اقوال وآراء کو جمع کیا ہے اور اس کا جائزہ لے کر ایک مختصر مجموعہ مرتب کیا ہے، اسی مجموعے کی تشریح علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ نے منھل الواردین من بحار الفیض کے نام سے کی ہے۔ اس وقت یہ مجموعہ سب سے مستند اور متداول ہے۔ ہمارے علم کے مطابق بعد میں آنے والے فقہاء میں سے کسی سے بھی اس مجموعے میں ذکر کردہ اقوال اور صورتوں پر اعتراض منقول نہیں۔ نیز معاصر فقہاء نے بھی اسی مجموعے کو بنیاد بنایا ہے اور اس پر اعتماد کیا ہے، کسی نے اس پر تسامح کا حکم نہیں لگایا۔ لہذا مذکورہ مولانا صاحب کو خود تسامح ہوا ہے۔
حوالہ جات
-
ناصر خان مندوخیل
دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی
29/07/1442 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ناصر خان بن نذیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


