| 80158 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ
دوبھائی ہیں،ان میں سے ایک کی بیٹی ہےاپنی بیوی سے اوردوسرے کا بیٹاہےاپنی بیوی سے، یہ دونوں بچے آپس میں نکاح کرنا چاہیےہیں مگرمسئلہ یہ ہے کہ ان بھائیوں میں سے ایک نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اورپھر حلالہ اپنے اسی بھائی سے کروایا تھا،توپوچھنا یہ ہے کہ بحالاتِ موجودہ مذکورہ نکاح درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکرکردہ نکاح درست ہے،اس لیےکہ محلَّلہ کی بیٹی(جو محِّلل سے نہیں ہے) اورمحِّلل کا بیٹا(جومحلَّلہ سے نہیں ہے)آپس میں محرم نہیں ہیں،اس لیے کہ نہ تو ان کا والد ایک ہے اورنہ ہی والدہ اورنہ ہی تحریم کےدیگراسباب میں سے کوئی سبب پایاجاتاہے،لہذا مذکورہ نکاح بلاشبہ درست ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی:وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُم (النساء:24)
في الدر المختار - (3 / 31)
وَأَمَّا بِنْتُ زَوْجَةِ أَبِيهِ أَوْ ابْنُهُ فَحَلَال
وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 31)
قَالَ الْخَيْرُ الرَّمْلِيُّ: وَلَا تَحْرُمُ بِنْتُ زَوْجِ الْأُمِّ وَلَا أُمُّهُ وَلَا أُمُّ زَوْجَةِ الْأَبِ وَلَا بِنْتُهَا وَلَا أُمُّ زَوْجَةِ الِابْنِ وَلَا بِنْتُهَا وَلَازَوْجَةُ الرَّبِيبِ وَلَا زَوْجَةُ الرَّابِّ. اهـ.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
28/10/ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


