| 78394 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
مضللہ کے جو احکام"منھل"میں درج ہیں وہ سمجھ تو آئے ہیں،لیکن اتنے مشکل ہیں کہ عمل ناممکن معلوم ہوتا ہے،کیا اس دور کی مضللہ کے لئے بھی وہی احکام ہوں گے؟ یا کوئی قابل عمل آسان صورت بھی ممکن ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آج کے دور میں بھی عام حالات میں متحیرہ کے لئے وہی احکام ہوں گے جو فقہ حنفی کی متداول کتابوں مذکور ہیں،تاہم اگر کسی عورت کے اس مرض کا دورانیہ طویل ہوجائے اور علاج کے باوجود افاقہ نہ ہواور حنفی مذہب کے مطابق عمل کرنے میں اسے شدید مشقت اور حرج کا سامنا ہو تو پھر ایسی مجبوری کی صورت اس عورت کے لئے امام احمد کے مذہب کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش ہوگی۔
جس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر حیض کے دنوں کے بارے میں کوئی رجحان ہو تو اس کے مطابق عمل کرے اور اگر کسی جانب رجحان نہ ہو تو ہر مہینے چھ یا سات دن حیض شمار کرے اور بقیہ استحاضہ۔(احسن الفتاوی10:/617،امدادالاحکام1:/370)
حوالہ جات
"المغني لابن قدامة" (1/ 233):
"مسألة: قال: (فإن كانت لها أيام أنسيتها، فإنها تقعد ستا أو سبعا في كل شهر) هذه من القسم الرابع من أقسام المستحاضة، وهي من لا عادة لها ولا تمييز وهذا القسم نوعان: أحدهما الناسية، ولها ثلاثة أحوال: أحدها، أن تكون ناسية لوقتها وعددها وهذه يسميها الفقهاء المتحيرة.
والثانية، أن تنسى عددها، وتذكر وقتها. والثالثة، أن تذكر عددها، وتنسى وقتها.
فالناسية لهما، هي التي ذكر الخرقي حكمها، وأنها تجلس في كل شهر ستة أيام أو سبعة، يكون ذلك حيضها، ثم تغتسل، وهي فيما بعد ذلك مستحاضة، تصوم وتصلي وتطوف".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
10/جمادی الاولی1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


