03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد میں اعلان کرنے کا حکم
80756نماز کا بیانمسجدکے احکام و آداب

سوال

مسجد میں نمازِ جنازہ یا کسی گمشدہ چیز کے بارے میں اعلان کرنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنے سے حدیث شریف میں منع فرمایا گیا ہے، فقہائے کرام رحمہم اللہ نے بھی اسے مکروہ قرار دیا ہے؛ اس لیے مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنا جائز نہیں۔ البتہ نمازِ جنازہ کے اعلان کی گنجائش دی گئی ہے؛ لأنها من الأمور الدینیة، کما فی خیر الفتاوی:6/537 و الفتاوی الفریدیة: 1/591، اسی طرح انسانی ہمدردی کی بنیاد پر گمشدہ بچے کے اعلان کی بھی گنجائش ہے، تاہم اگر ان  کا انتظام مسجد سے باہر ہوسکے تو زیادہ بہتر ہے۔ 

حوالہ جات

سنن أبي داود (1/ 353):

باب في كراهية إنشاد الضالة في المسجد:

حدثنا عبيد الله بن عمر الجشمي، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا حيوة بن شريح قال: سمعت أبا الأسود يقول: أخبرنى أبو عبد الله مولى شداد أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل: لا أداها الله إليك؛ فإن المساجد لم تبن لهذا".

الدر المختار (1/ 659):

ویحرم فیه السؤال ويكره الإعطاء مطلقا، وقيل: إن تخطى، وإنشاد ضالة.

رد المحتار (1/ 660):

قوله (وإنشاد ضالة) هي الشيء الضائع وإنشادها السؤال عنها. وفي الحديث إذا رأيتم من ينشد ضالة في المسجد فقولوا: لا ردها الله عليك.

لامع الدراری،شرح صحیح البخاری للشیخ رشید أحمد الکنکوهي (2/439):

باب أصحاب الحراب في المسجد:………قال ابن بطال: المسجد موضع لأمر جماعۃ المسلمین، فما کان من الأعمال مما یجمع منفعۃ الدین وأھلہ فہو جائز فی المسجد.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      1/ محرم الحرام /1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب