03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرائطِ جمعہ نہ پائے جانے کی باوجود پڑھی گئی نمازِ جمعہ کا حکم
81606نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

جس جگہ جمعہ کی شرائط نہ پائی جانے کے باوجود جمعہ کی نماز اداء کرلی جائے تو لوگوں کے ذمے جو فرض رہ جاتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر اس جگہ اتنی آبادی ہو جو امام شافعی یا کسی دوسرے مجتہد کے قول کے مطابق اقامتِ جمعہ کے لیے کافی ہو اور متعلقہ جگہ کے کسی ایسے عہدیدار کی اجازت سے جمعہ شروع کیا گیا ہو جسے اس علاقے میں سرکار کی طرف سے احکامات نافذ کرنے اور لوگوں کے معاملات میں فیصلہ کرنے کامکمل اختیار ہو،جیسے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر وغیرہ تو لوگوں کی جمعہ کی نماز ہوجائے گی،جبکہ مذکورہ شرائط میں سے کسی شرط کے نہ پائے جانے کی صورت میں ان لوگوں کی جمعہ کی نماز صحیح نہیں ہوگی اور ان کے ذمے اس عرصے کی ظہر کی نمازوں کی قضاء لازم ہوگی،یہ احتیاط پر مبنی قول ہے،بعض حضرات کے نزدیک گزشتہ نمازیں نہ لوٹانے کی گنجائش ہے،البتہ آیندہ کے لیے ایسی جگہ جمعہ پڑھنے سے احتراز ضروری ہے یا پھر اوپر ذکرکردہ طریقے کے مطابق کسی آفیسر سے اجازت لے کر جمعہ کی ادائیگی کی جائے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (2/ 138):

 "(قوله وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر، وهذا إذا لم يتصل به حكم، فإن في فتاوى الديناري إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي اهـ فافهم والرستاق القرى كما في القاموس".

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

14/ربیع الثانی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب