03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسلامی سیریز دیکھنا
82358جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اسلام علیکم کیا جو لوگ انڈین ڈراما و فلم اور ناچ گانے کی ویڈیو دیکھتے جس میں تقریبا ہر طرح کی خرابیاں پاٸ جاتی ہیں تو انکے لۓ ارطغرل غازی اور عثمان سیریز دیکھنا کیسا ہے جبکہ یہ بات مستحکم ہو کہ(عمر سیریز)میں کوٸ غلط بیانی نہیں کی گٸ ہے ہر بات یا واقعہ پر حدیث کوڈ کیا گیا ہے تو کیا انڈین اور پاکستانی ڈراموں اور فحش فلموں میں ملوث افراد کے لۓ عمر سریز دیکھنا کیا ایسا ہی ہے جیسا انڈین ناچ گانا وغیرہ کیونکہ عمر سیریز میرے مطابق انڈین ڈراموں اور فحش فلموں سے بہتر ھیکہ اسکے ذریعے اسلامی تاریخ کا پتہ چلتا ہے اور مکمل فحش و بے حیاٸ کے گناہ سے بچاؤ بھی تو براہ کرم سوال کی نوعیت کے مطابق جواب فراہم کردیں کہ انڈین ڈرامیوں اور فحش فلموں اور گانا وغیرہ کے عادی افراد کے لۓ عمر سیریز یا ارطغرل غازی یا دیگر اسلامی موضوعات پر بنی سچ فلمیں جس میں جھوٹ نہ ہو تو انکا دیکھنا کیسا ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تصویر یا فلم کے ذریعہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) کی شکل وشباہت اور ان کے سیرت وکردار کو فرضی شکلوں میں پیش کرنا، متعدد مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور سخت گناہ ہے، لہذا اس قسم کی تصویر سازی یا ڈرامہ بنانا، دیکھنا یا دوسروں کو دکھانا، سب ناجائز اور سخت گناہ ہے، مسلمانوں کو ان مذکورہ امور سے سختی کے ساتھ پرہیز کرنا لازم ہے۔

اس قسم کے دیگر ڈراموں کی فلم بندی کرنے اور اس کو دیکھنے میں شرعاً متعدد قباحتیں موجود ہیں۔
1۔ اس میں جان بوجھ کر جھوٹ شامل کیا گیا ہے، کیونکہ جھوٹ کی آمیزش کے بغیر ایسے ڈرامے مکمل ہی نہیں ہوسکتے، اور ان میں دلچسپی بھی برقرار نہیں رہ سکتی۔ جھوٹ  گناہِ کبیرہ ہے۔

2۔ اس میں عورتوں کے کردار کی وجہ سے مرد و زن کا اختلاط بھی ہے، جبکہ نامحرم عورتوں کو قصداً دیکھنا ناجائز اور حرام ہے، شریعت نے اسے آنکھ کے زنا سے تعبیر کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ آنکھیں زنا کرتی ہیں، ان کا زنا نامحرم کو دیکھنا ہے۔

3۔ ڈرامے میں محبت کی داستان بھی شامل کی گئی ہے، چنانچہ عشق و معاشقہ کے مواد ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کے اخلاق متأثر ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔

4۔  ڈرامہ میں بیک گراؤنڈ میوزک بھی  ہوتاہے۔

5۔ اس قسم کے ڈراموں کو تبلیغِ دین، اصلاح اور بیداری کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پردہ اسکرین پر جو کچھ لوگوں کو دکھایا جاتا ہے اس کا اصلاحی اثر وقتی ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کتابی اثر دیر پا ہوتا ہے اور تاریخ کی معتبر کتابیں ہی حقیقی اثر پیدا کرسکتی ہیں، تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لئے مستند تاریخی کُتب ہی قلب کی تسکین کا باعث ہوسکتی ہیں، افسانے اور ڈرامے نہیں۔

6۔ایسی فلمیں غیرمسلموں بلکہ مسلمانوں پر بھی کوئی مثبت و دیرپا اثرات ڈالنے میں ناکام رہیں، اس طرح کی فلموں میں جو کردار اسکرین پر دکھائے جائیں گے، ناظرین کے ذہنوں میں اس شخصیت کی وہی تصویر بن جاتی ہے، ممکن ہے وہ اداکار مسلمان ہی نہ ہو، یا مسلمان تو ہو لیکن فاسق و فاجر ہو، اداکار خواہ کچھ بھی ہو، لیکن صحابہ کرام کے مرتبہ کا تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اسلام کی ایسی عظیم اور مقدس ہستیوں کے ذکر کے وقت اداکاروں کی شکل و صورت ذہن میں آنا بذاتِ خود ایک بڑی قباحت ہے۔

لہٰذا اتنی ساری قباحتیں جس چیز میں موجود ہوں وہ بلاشبہ ناجائز عمل ٹھہرے گا،  ایسے ڈراموں کا بنانا، اس کا دیکھنا اور اس کے دیکھنے کی ترغیب دینا شرعاً ناجائز ہے، مسلمانوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

17/جمادی الثانیة1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب