03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں جائیداد تقسیم کرتے وقت کمی بیشی کا حکم
80833ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

 اگر میں اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد اور ورثا کے درمیان تقسیم کرنا چاہوں تو اس کی کیا ترتیب ہوگی؟

شرعا زندگی میں اپنی جائیداد،مال و دولت اور بینک بیلنس اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنے کے کتنے طریقے ہیں؟ کیا میں کسی کو زیادہ اورکسی کو کم دے سکتا ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زندگی میں اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا ہبہ کے حکم میں ہےاور اس کے حوالے سے تفصیل درج ذیل ہے:

1۔عام حالات میں اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری مستحب ہے ،یعنی سب کو ،چاہے لڑکا ہو یا لڑکی برابر حصہ دیا جائے۔

2۔بغیر کسی معقول وجہ ترجیح کے، محض نقصان پہنچانے کی غرض سے بعض کو کم اور بعض کو زیادہ دینا ناجائز ہے۔

3۔ اگرکمی بیشی کی کوئی معقول وجہ ہو،جیسےاولاد میں سے کسی کا زیادہ تنگدست ہونا،زیادہ عیالدار ہونا،بعض کاخدمت گار ہونا اور بعض کا نافرمان ہوناوغیرہ توایسی صورت میں جو زیادہ تنگدست،عیالدار یاخدمت گار ہو اسے زیادہ دیاجاسکتا ہے،لیکن کسی کو بالکل محروم کردینا جائز نہیں۔

4۔ایسی بے دین اولاد کوجسے دینے کی صورت میں غالب گمان ہو کہ وہ اس مال کو ناجائز کاموں میں صرف کرے گی وقتی ضرورت سے زیادہ نہیں دینا چاہیے،بلکہ ایسی صورت میں سارا ان میں تقسیم کرنے کے بجائےاضافی مال دینی کاموں میں خرچ کردینا مستحب ہے۔

واضح رہے کہ چونکہ زندگی میں جائیداد کی تقسیم ہبہ ہے،اس لیے اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ والد اولاد میں سے جس کو جو مال دے وہ اس کے نام کرکے باقاعدہ اس کے قبضے میں بھی دے،کیونکہ اگر صرف نام کروایا اور قبضہ نہیں دیا تو ایسا ہبہ پورانہیں ہوگا اور والد کے انتقال کے بعد ایسا مال بھی میراث کا حصہ بن کر سب ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔

یہ بھی واضح ہو کہ زندگی میں کسی وارث کو کچھ مال دے کر یہ کہنے سے کہ اب میراث میں تمہارا کوئی حصہ باقی نہیں رہا،اس وارث کا حصہ میراث میں حصہ ختم نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

"البحر الرائق شرح كنز الدقائق ": (ج 20 / ص 110) :

"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم، كذا في المحيط.

 وفي فتاوى وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة, ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث, هذا خير من تركه؛ لأن فيه إعانة على المعصية، ولو كان ولده فاسقا لا يعطي له أكثر من قوته".

"الدر المختار للحصفكي ": (ج 5 / ص 265) :

وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم".

"البزازیہ علی ھامش الہندیۃ"(۶/237):

"الافضل فی ھبۃ الابن والبنت التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھوالمختار،ولووھب جمیع مالہ من ابنہ جاز ،وھو آثم ،نص علیہ محمد ،ولو خص بعض اولادہ لزیادۃ رشدہ لاباس بہ ،وان کانا سواءلایفعلہ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

08/محرم 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب