03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ماموں کی طرف سے ہبہ کی گئی زمین پر چالیس سال بعد ان کی اولاد کا دعوی کرنا
80848دعوی گواہی کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ماموں نے اپنے  بھانجے کو زمین ہبہ کی تھی،بھانجے نے اس زمین کے ایک حصے میں گھر بنالیا اور دوسرے حصے پر دکان بناکر کرایہ پر دے دی،ایک لمبے عرصے تک وہ اس دکان کا کرایہ لیتا رہا،ماموں نے اپنی زندگی میں زمین تقسیم کی،لیکن اس وقت ماموں نے اس ہبہ کی گئی زمین کا کوئی ذکر نہیں کیا،پھر ماموں کا انتقال ہوگیا،ماموں کے ہبہ کے چالیس سال بعد اب ماموں کے بیٹے اس زمین پر دعوی کررہے ہیں کہ ہماری زمین ہے،لہذا ہمیں دی جائے،جبکہ بھانجاکہہ رہا ہے کہ یہ زمین ماموں نے چالیس سال پہلے مجھے ہبہ کی تھی،وہاں علاقے میں بھی یہی مشہور ہے،لیکن بھانجے کے پاس کوئی گواہ یا تحریری دستاویز نہیں ہے جسے وہ ثبوت کے طور پر پیش کرسکے،ماموں کے بیٹے کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمارے والد نے یہ زمین ہبہ کی ہے تو اس کا کوئی ثبوت پیش کرو،لیکن بھانجے کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔

اب آپ حضرات سے گزارش ہے کہ شریعت کے مطابق ہمارا فیصلہ فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ آپ کو اس زمین میں تصرف کرتے ہوئے چالیس سال کا عرصہ گزرچکا ہے،اس طویل دورانیہ کے درمیان خاص کر ماموں کی زندگی میں جائیداد کی تقسیم کے وقت بھی جب ان کے بیٹوں نے  کسی معقول وجہ کے بغیر اس زمین کے حوالے سے کوئی باز پرس نہیں کی،تو اب اتنے طویل عرصے کے بعد اب ماموں کے بیٹوں کا اس زمین کے حوالے سے مذکورہ دعوی کا شرعا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

حوالہ جات

"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية "(2/ 15):

"(سئل) في رجل تصرف في دار معلومة زمانا تصرف الملاك في أملاكهم من غير معارض له في ذلك ولا في شيء منه ثم باعها من زيد وباعها زيد من عمرو ومضى للتصرف المذكور أكثر من عشرين سنة وللرجل قريب مطلع على التصرف المذكور هو وورثته من بعده ولم يدعوا بشيء من الدار والكل في بلدة واحدة ولم يمنعهم من الدعوى مانع شرعي قام الآن ورثته يريدون الدعوى بشيء من الدار فهل تكون دعواهم بذلك غير مسموعة؟

(الجواب) : نعم لا تسمع دعواهم في ذلك وتترك الدار في يد المتصرف قطعا للأطماع الفاسدة؛ لأن السكوت كالإفصاح قطعا للتزوير والحيل والمسألة في كثير من المعتبرات كالتنوير والكنز والملتقى في مسائل شتى آخر الكتاب والبزازية الولوالجية وعبارتها رجل تصرف زمانا في أرض ورجل آخر رأى الأرض والتصرف ولم يدع ومات على ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوى ولده فتترك في يد المتصرف؛ لأن الحال شاهد اهـ لا سيما بعد صدور المنع السلطاني عن سماع الدعوى بعد خمس عشرة سنة والمسألة في فتاوى الأنقروي مفصلة وكذا في الخيرية في كتاب الدعوى في عدة أسئلة".

"رد المحتار" (6/ 742):

"ثم اعلم أنه نقل العلامة ابن الغرس في الفواكه البدرية عن المبسوط إذا ترك الدعوى ثلاثا وثلاثين سنة، ولم يكن مانع من الدعوى، ثم ادعى لا تسمع دعواه لأن ترك الدعوى مع التمكن يدل على عدم الحق ظاهرا اهـ ومثله في البحر وفي جامع الفتاوى وقال المتأخرون من أهل الفتوى: لا تسمع الدعوى بعد ست وثلاثين سنة إلا أن يكون المدعي غائبا أو صبيا أو مجنونا ليس لهما ولي، أو المدعى عليه أميرا جائزا يخاف منه كذا في الفتاوى العتابية".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

11/محرم 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب