03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
DSOP فنڈ میں جبری اور اختیاری کٹوتی کا حکم
60880اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

میں پاکستان نیوی میں ملازمت کرتا ہوں، ہماری تنخواہ سے بغیر ذاتی اختیار کے کچھ رقم کی کٹوتی ہوتی ہے، جو کہ جمع ہوتی رہتی ہے اور ملازمت مکمل ہونے پر یکمشت دی جاتی ہے اور اس رقم پر ہمیں سالانہ نفع بھی دیا جاتا ہے، جسے ہم DSOPفنڈ کانام دیتے ہیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے ذاتی اختیار سے مستقبل کی بچت کی خاطر زائد رقم بھی کٹواتے ہیں، اس پر بھی سالانہ نفع دیا جاتا ہے، نیز مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں اختیار بھی ہوتا ہے کہ کٹوتی جاری رہے، مگر ملنے والے نفع کو رکوا دیا جائے، لیکن نفع بند کروانے کی صورت میں اچھی خاصی رقم سے محرومی ہوجاتی ہے۔ دوسری صورت کے بارے میں بعض مفتیان کرام جواز کا جواب دیتے ہیں اور بعض شبہ سود کا۔ برائے  مہربانی درج ذیل سوالات کے جوابات دے کر ممنون فرمائیں:

مذکورہ بالا دونوں صورتوں کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

DSOP فنڈ میں کٹوتی جبری ہو یا اختیاری، دونوں صورتوں میں ملازم کو ریٹائرڈمنٹ کے بعد یکمشت ملنے والی رقم در اصل اس کی تنخواہ  کا حصہ ہے، گویا کہ ملازم کی تنخواہ کے دو حصے ہوتے ہیں: ایک حصہ ماہانہ ادا کردیا جاتا ہے اور دوسرا حصہ ریٹائرڈمنٹ کے بعد ملتا ہے، اس پر گورنمنٹ اپنی طرف سے جو اضافہ کرتی ہے وہ بھی درحقیقت ملازم کے عمل کی اجرت اور اس کا معاوضہ ہے، کیونکہ ملازم کے تنخواہ پر قبضہ کرنے سے پہلے حکومت کی طرف سے جو بھی اضافہ کیا جاتا ہے وہ تنخواہ کا حصہ بن جاتا ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے ملازم کی دس ہزار روپیہ تنخواہ مقرر کرے اور پھر مہینہ ختم ہونے پر اس میں ایک ہزار روپیہ اضافی شامل کر دے۔لہذا اس میں سود کا عنصر نہیں پایا جاتا، اس لیے یہ تمام رقم اضافہ سمیت لینا جائز ہے۔

البتہ اختیاری کٹوتی کی صورت میں چونکہ آدمی اپنی مرضی اور اختیار سے رقم کٹوا کر اضافی رقم حاصل کرتا ہے، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اضافی رقم  خود استعمال کرنے کی بجائے اپنے بیوی بچوں اور دیگر رشتہ داروں وغیرہ پر صَرف کر دی جائے۔

حوالہ جات

۔۔۔

محمدنعمان خالد

 دارالافتاء جامعة الرشید، کراچی

27 محرم الحرام 1439ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب