| 84038 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ماں ، دادی اورنانی کو بچی کی پرورش کا حق بلوغ تک ہے یا نو سال تک؟اس کے متعلق جامعہ الرشید کے فتاوی متعارض ملتے ہیں اورجامعہ دار العلوم کراچی کے بھی،حالانکہ شامی ،بحر وغیرہ میں فتوی نو سال پر نقل کیا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ظاہر الروایہ کےمطابق ماں،دادی اور نانی کو بلوغت تک جبکہ غیر ظاہر الروایہ کےمطابق حد شہوت تک حق حضانت حاصل ہے ۔ علامہ شامی اور صاحب بحر نے فساد زمان کی وجہ سے غیر ظاہر الروایہ پر فتوی دیا ہے اور حد شہوت کی تحدید نو سال سے کی ہے ۔
حد شہوت مختلف عوامل کی وجہ سے زمان و مکان کے بدلنے سے مختلف ہوتا ہے ،جس کی تحدید مشکل ہے، جیسا کہ بعض نے بارہ سال کو اوربعض نے نو سال کو متفقہ طورپر حد شہوت قرار دینے کا دعوی کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ولوالجیۃ میں عدم تحدید کا قول اختیار کیا گیا ہے۔ گویا کہ ظاہر الروایہ پر عمل کرنے میں آسانی ہےاور غیر ظاہر الروایہ پر عمل کرنے میں احتیاط ہے ، ہمارے اکابر میں سے بڑی تعداد نے حد بلوغ اور بعض نے حد شہوت کو معیار قرار دے کر فتاوی دیئے ہیں۔پہلا مذہب أیسر اور دوسرا أحوط ہے ۔ جامعہ الرشید کے آخری اور جدید فتاوی میں پہلے مذہب کو اختیار کیا گیا ہے ،جس کے لنکس نیچے دیئے گئے ہیں ۔ دارالعلوم کےفتاوی میں بھی اگر واقعتا اس طرح کا تعارض ہے تو اس کی تحقیق کےلیے ان سے پوچھنا بہتر رہےگا۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (5/ 207):
فإن كان غلاما فحتى يأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده وفي نوادر داود بن رشيد ويستنجي وحده، وإن كانت جارية فهي أحق بها حتى تحيض... وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق بها للمعنى الذي أشرنا إليه وهو قوة غيرة الرجال فإن الأم ربما تخدع فتقع في فتنة ولا تشعر الأم بذلك ويؤمن ذلك على الأب.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 566):
(والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ...(وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. وبنت إحدى عشرة مشتهاة اتفاقا زيلعي.(وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد زيلعي
(قوله: مشتهاة اتفاقا) بل في محرمات المنح: بنت تسع فصاعدا مشتهاة اتفاقا سائحاني.(قوله: كذلك) أي في كونها أحق بها حتى تشتهى. (قوله: وبه يفتى) قال في البحر بعد نقل تصحيحه: والحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 184):
(قوله وبها حتى تحيض) أي: الأم والجدة أحق بالصغيرة حتى تحيض؛ لأن بعد الاستغناء تحتاج إلى معرفة آداب النساء والمرأة على ذلك أقدر وبعد البلوغ تحتاج إلى التحصين والحفظ والأب فيه أقوى وأهدى وبه علم أنه لو قال حتى تبلغ لكان أولى وعن محمد أنها تدفع إلى الأب إذا بلغت حد الشهوة لتحقق الحاجة إلى الصيانة قال في النقاية وهو المعتبر لفساد الزمان، وفي نفقات الخصاف وعن أبي يوسف مثله، وفي التبيين وبه يفتى في زماننا لكثرة الفساد، وفي الخلاصة وغياث المفتي والاعتماد على هذه الروايات لفساد الزمان.
فالحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية فقد صرح في التجنيس بأن ظاهر الرواية أنها أحق بها حتى تحيض واختلف في حد الشهوة، وفي الولوالجية وليس لها حد مقدر؛ لأنه يختلف باختلاف حال المرأة، وفي التبيين وغيره وبنت إحدى عشرة سنة مشتهاة في قولهم جميعا وقدره أبو الليث بتسع سنين وعليه الفتوى اهـ.
https://almuftionline.com/2024/01/23/12240/
بچے کی پرورش کے حق کی تفصیل
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
28 /ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


