03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سفر کے دوران راستے میں قصر پڑھنے کا حکم
66995نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

ایک شخص دن کو 12 بجے کے قریب اپنے شہر سہراب گوٹھ سے اپنے گاؤں کی طرف سفر کا ارادہ کرتا ہے،اور ٹول پلازہ سے تھوڑی دور جانے کے بعد ظہر کی نماز پڑھنے کے لیے رکتا ہے اور اس نے ابھی تک سفر شرعی 78کلو میٹر طے نہیں کیا ہوتا ہے شہر سے باہر ہونے کی صورت میں اس نماز کوقصر کرسکتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

78کلومیٹر دور جانے کا ارادہ ہوتو جس شہر سے سفر شروع کیا ہے اس کی حدود سے نکلنے کے بعد راستے میں قصر نماز پڑھنا ضروری ہے۔عرف کے اعتبار سےآج کل شہروں کی حدود کی اختتامی علامت "ٹول پلازہ" شمار کی جاتی ہے،البتہ جہاں آبادی اس سے آگے نکل چکی ہو،اوراس آبادی کو بھی اس شہر کا حصہ سمجھا جاتا ہوتو وہاں سے نکلنے کے بعد قصر نماز پڑھنے کا حکم ہوگا۔

حوالہ جات

وفی الدر المختار (5/ 485)

( من خرج من عمارة موضع إقامته ) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر .

وفي الخانية : إن كان بين الفناء والمصر أقل من غلوة وليس بينهما مزرعة يشترط مجاوزته وإلا فلا ( قاصدا ) ۔۔۔ ( مسيرة ثلاثة أيام ولياليها ) ۔۔۔( صلى الفرض الرباعي ركعتين ) وجوبا

(قوله: من خرج من عمارة موضع إقامته): أرادبالعمارة ما يشمل بيوت الأخبية؛ لأن بها عمارة موضعها.قال في الإمداد: فيشترط مفارقتها ولومتفرقة.….أشار إلى أنه يشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإقامة كربض المصر، وهو ما حول المدينة من بيوت ومساكن، فإنه في حكم المصر. وكذا القرى المتصلة بالربض في الصحيح

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

15/محرم1441ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب