03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زوجہ،دوبیٹےاور دوبیٹیوں میں تقسیم میراث
67020میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد صاحب کا انتقال4جون 2017کو ہوا،والد کے انتقال کے وقت میں شادی شدہ تھی ،میری شادی کو 10سال ہوچکے تھے،والد کے انتقال کے ایک سال بعدمیری بہن کی شادی ہوگئی ،ہم چار بہن بھائی ہیں،دوبہنیں اور دوبھائی،دونوں بھائی بھی شادی شدہ ہیں۔

ہمارے والد صاحب نے اپنی وراثت میں ایک بلڈنگ چھوڑی ہے جس میں چار دکانیں اور تین پورشن کرایے پر ہیں،باقی مکان میں امی اور بھائی رہائش پذیر ہیں۔معلوم یہ کرنا ہے کہ والد صاحب کے مکان میں جو مکان اور دکان کرایے پر ہیں،اس میں میرا اور میری بہن کا حصہ کس حساب سے ہے ؟اور چونکہ میں والد صاحب کے انتقال کے وقت شادی شدہ تھی اور بہن کی شادی بعد میں ہوئی تو ہمیں وہ کرایہ اگر ملے تو کب سے ملنا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد نے  فوت ہوتے وقت  ترکہ میں جو کچھ چھوڑا  تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اس کے بعد بقیہ مال میں سےبیوی کو 12.5،ہر بیٹے کو 29.166اور ہر بیٹی کو 14.583 فیصد حصہ دیا جائے۔تمام چیزوں کا نفع   یاکرایہ سب ورثہ میں  میں ان کے شرعی حصص(یعنی مذکورہ بالا تفصیل )  کے مطابق  تقسیم ہو گا۔ اوریہ حق والد صاحب کی وفات کے بعد سے ہی ثابت ہواہے،لہذا اس وقت سے اپنے حصہ کے مطابق یہ کرایہ آپ کا حق بنتا ہے

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

19/محرم1441ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب