| 84548 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
شاملات کی جگہ پر آگر کسی نے ناجائز قبضہ کیا ہو اور پھر مسجد یا مدرسے کے لیے وقف کر دے تو اس جگہ پر مسجد یا مدرسہ بنانے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شاملات کی زمین پر کسی ایک بندہ کا قبضہ کرنا غصب اور ناجائز ہے اور غاصب کا مغصوبہ زمین کو مسجد یا مدرسہ کےلیے وقف کرنا کالعد م اور باطل ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں شاملات کی زمین پر قابض شخص کا وقف باطل ہے ۔ ایسی زمین میں گاؤں کےتمام باشند گان کی اجازت کے بغیر مسجد یا مدرسہ بنانا ،ان میں نماز پڑھنا اور دین سیکھنا و سکھانا ناجائز ہے۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 203):
الخامس من شرائطه الملك وقت الوقف حتى لو غصب أرضا فوقفها ثم اشتراها من مالكها ودفع الثمن إليه أو صالح على مال دفعه إليه لا تكون وقفا لأنه إنما ملكها بعد أن وقفها هذا على أنه هو الواقف أما لو وقف ضيعة غيره على جهات فبلغ الغير فأجازه جاز بشرط الحكم والتسليم أو عدمه على الخلاف الذي سنذكره وهذا هو المراد بجواز وقف الفضولي.
وفی الفتاوى الهندية:(121/1):
الصلاة فى أرض مغصوبة جائزة ولكن يعاقب بظلمه فما كان بينه وبين اللّٰه تعالي يثاب وما كان بينه وبين العباد يعاقب كذا فى مختار الفتاوى.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
11 /صفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


