03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی،چاربیٹو اورچاربیٹیوں میں میراث کی تقسیم
84523میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

محمداصغرنے دوسرے پاٹنروں کےساتھ ملکر8800000میں ایک مکان خریدا،اب اس مکان کی قیمت ایک کروڑ اٹھاسی لاکھ ہے،اس سے جو نفع ہوا وہ اوراصل رقم تمام پاٹنروں میں تقسیم کی گئی، جس سے محمد اصغرکو 6409080 روپے ملے،یہ رقم اصغرکی بیوہ،4 بیٹوں اور4 بیٹوں میں شرعی اعتبارسے تقسیم کرنا ہے، برائے کرم یہ بتادیں کہ مذکورہ رقم(6409080) مذکورہ افراد میں کس حساب سے تقسیم ہوگی ؟

نوٹ ،محمداصغرصاحب حیات ہیں ،تاہم وہ یہ اس لیے معلوم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی موت کے بعد اولاد میں حصوں کے حوالے سے اختلافات نہ ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

محمداصغرکو اللہ تعالی لمبی زندگی عطاء کرے ،تاہم اگروہ فوت ہوتے ہیں اورانتقال کے وقت صرف یہی ورثاء موجود ہوتے ہیں جوسوال میں مذکورہیں توکل منقولہ ،غیرمنقولہ ترکہ میں سےحقوق متعلقہ بالترکہ (کفن دفن کے اخراجات، قرض  اورایک تہائی تک وصیت اگرکی ہو)کی ادائیگی کے بعدمذکورہ  ورثہ کا حصہ درج ذیل ہوگا۔

وارث

حصہ فیصدمیں

حصہ روپے میں

بیوہ

%12.5

روپے801135

بیٹا

%14.583

روپے 934657.5

بیٹا

%14.583

روپے 934657.5

بیٹا

%14.583

روپے 934657.5

بیٹا

%14.583

روپے 934657.5

بیٹی

%7.292

روپے 467328.75

بیٹی

%7.292

روپے 467328.75

بیٹی

%7.292

روپے 467328.75

بیٹی

%7.292

روپے 467328.75

ٹوٹل

%100

روپے 6409080

واضح رہے کہ مکان کی مذکورہ بالاقیمت جو اوپرلکھی گئی ہےوہ  اِس وقت کی ہے جبکہ فائنل اورمعتبرقیمت وہ ہو گی جو محمداصغر صاحب کی وفات کے بعد لگائی جائےگی ،لہذا جو فیصدی حصہ بنایاگیاہے ،اسی کوسامنے رکھتے ہوئے اُس وقت کی قیمت اورباقی ترکہ کو تقسیم کیاجائے گا۔

حوالہ جات

وفی البحرالرائق:

الإرث يثبت بعد موت المورث.(البحرالرائق، كتاب الفرائض،ج:9،ص:364)

  قال اللہ تعالی :

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن   [النساء/11]

التفسير الميسر - (ج 2 / ص 12)

ولأزواجكم - أيها الرجال - الربع مما تركتم، إن لم يكن لكم ابن أو ابنة منهن أو من غيرهن، فإن كان لكم ابن أو ابنة فلهن الثمن مما تركتم، يقسم الربع أو الثمن بينهن، فإن كانت زوجة واحدة كان هذا ميراثًا لها، من بعد إنفاذ ما كنتم أوصيتم به من الوصايا الجائزة، أو قضاء ما يكون عليكم من دَيْن.

وفی البحر الرائق (8/ 567)

 والعصبة أربعة أصناف: عصبة بنفسه وهو جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده الأقرب.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 29/1/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب