| 84984 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
مفتی صاحب زکوٰۃ کے متعلق دریافت کرنا تھاجیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ آج کل مہنگا ئی بہت زیادہ ہو گئی ہے اور ان حالات میں بجلی، گیس وغیرہ کے بلوں کی ادائیگی کسی کم آمدنی والے گھرانے کے لئے کافی دشوار ہوتی ہے، ایسے میں کسی سفید پوش یا مستحق کا بجلی یا گیس کا بل زکوٰۃ کی مد میں بغیر اُس کو مطلع کئے یا بغیر اُس کو نقد رقم دیئے ادا کیا جا سکتا ہے، جس طرح بہت سے ادارے زکوٰۃ کی رقم سے مستحقین کا علاج معالجہ کرواتے ہیں یا بچوں کی اسکول یا کالج کی فیس کے پیسے اُس مستحق کے ہاتھ میں دینے کے بجائے براہِ راست متعلقہ ادارے کوادا کردیتے ہیں۔ کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ زکٰواۃ کی ادائیگی کے لئے مستحق کو مالک بنانا یا اس سے اجازت لینا ضروری ہے ،تاکہ زکٰواۃ ادا کرنے والا مستحق کی طرف سے وکیل بن کر زکٰوۃ کی ادائیگی کرے ،ورنہ زکٰوۃ ادا نہیں ہوتی،لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی کسی مستحق کا بجلی یا گیس کا بل اس کو مالک بنائے یا اس سے اجازت لئے بغیر ادا کرے تو اس سے اس کی زکٰوۃ ادا نہیں ہوگی۔باقی اداروں کو جو زکٰوۃ کی رقم دی جاتی ہے ،تو ادارے پہلے کسی مستحق کو اس رقم کا مالک بناتے ہیں ،پھر وہی مستحق وہ رقم اپنی رضامندی سے اس متعلقہ ادارے کو ہدیہ کرتاہے،اس کے بعد وہ ادارے اس رقم کو مستحقینِ زکٰوۃ پر خرچ کرتے ہیں،لہذا کسی ادارے کو زکٰواۃ کی رقم دینے کے بعد یہ معلوم کرنا چاہئے کہ ادارہ کسی کو اس رقم کا مالک بناتاہے یا نہیں،اگر نہیں بناتا تو زکٰوۃ ادا نہیں ہوگی ،اگر کسی مستحق کو پہلے مالک بناکر پھر خرچ کرتا ہے تو زکٰوۃ اد ا ہوجائیگی۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 256):
(هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه .
الاختيار لتعليل المختار (1/ 121):
واعلم أن التمليك شرط. قال تعالى: {وآتوا الزكاة} [البقرة: 43] والإيتاء: الإعطاء ; والإعطاء: التمليك، فلا بد فيها من قبض الفقير أو نائبه كالوصي والأب ومن يكون الصغير في عياله قريبا كان أو أجنبيا، وكذلك الملتقط للقيط؛ لأن التمليك لا يتم بدون القبض ولا يبنى بها مسجد ولا سقاية ولا قنطرة ولا رباط، ولا يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين ميت، ولا يشترى بها رقبة تعتق لعدم التمليك ; ولو قضى بها دين فقير جاز، ويكون القابض كالوكيل عن الفقير.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 41):
ولو تصدق عن غيره بغير أمره فإن تصدق بمال نفسه جازت الصدقة عن نفسه ولا تجوز عن غيره وإن أجازه ورضي به أما عدم الجواز عن غيره فلعدم التمليك منه إذ لا ملك له في المؤدى ولا يملكه بالإجازة فلا تقع الصدقة عنه وتقع عن المتصدق؛ لأن التصدق وجد نفاذا عليه، وإن تصدق بمال المتصدق عنه وقف على إجازته فإن أجاز والمال قائم جاز عن الزكاة وإن كان المال هالكا جاز عن التطوع ولم يجز عن الزكاة؛ لأنه لما تصدق عنه بغير أمره وهلك المال صار بدله دينا في ذمته فلو جاز ذلك عن الزكاة كان أداء الدين عن الغير وأنه لا يجوز والله أعلم.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 53):
أن الزكاة عبادة عندنا والعبادة لا تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديا بيد النائب، وإذا، أوصى فقد أناب وإذا لم يوص فلم ينب، فلو جعل الوارث نائبا عنه شرعا من غير إنابته لكان ذلك إنابة جبرية والجبر ينافي العبادة إذ العبادة فعل يأتيه العبد باختياره ولهذا قلنا إنه ليس للإمام أن يأخذ الزكاة من صاحب المال من غير إذنه جبرا، ولو أخذ لا تسقط عنه الزكاة.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
12/ ربیع الثانی /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


