| 85210 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
کیا فرما تے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں :ایک کمپنی ہے جس کا نام EBL- pakistan(ایزی بزنس لائف پاکستان) ہے اور اس میں کام کرنے کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ سب سے پہلے اس میں داخلہ کرنا ہوتا ہے، جس کا فیس 850 روپے ہے ، اس کے بعد کمپنی میں اکاؤنٹ بن جاتا ہے اور پھر اس میں پیسے کمانے کے دو طریقے ہوتے ہے:
1. اس کمپنی میں حلالProduct بھی ہوتی ہے جو کہ ebl pakistan والے اپنے ممبرز کو 30 percent ڈسکاونٹ پر دیتے ہیں اور ممبر ز اپنے لیے اصل ریٹ پرفروخت کر دیتے ہیں۔
2 product. کی خریداری کے ساتھ ساتھ اگر مزید پیسے کمانا چاہتے ہیں تو کمپنی کو دو ممبر دینے ہوں گے ،کیونکہ کمپنی کا اصل مقصد اپنے product سیل کرنے ہیں ،اس پر کمپنی کی طرف سے 300 روپے ملتے ہیں اور پھر وہ دو ممبر کو اسی طرح تعلیم دیتا ہےجس طرح شروع میں بیان کیا گیا ،اگر وہ دو ممبر کمپنی کو دو دو ممبر دیتے ہیں پھر ان دونوں کو300،300 ملتے ہیں اور پہلے بندے کو 400 ملتے ہیں اور جیسے جیسے اور ممبر بناتے جائیں گے ،پہلے بندوں کو ابتداء میں300، پھر400، پھر 800، پھر1600 پھر3200، پھر آخر میں3600 تک ملتے جائیں گے، کیونکہ پہلے والے ممبر روزانہ اپنے ممبر کو کام کرنے کا طریقہ کار بتاتا ہے اور ہر مشکلات میں پیش پیش ہوتا ہےاور ساری ٹیم کی ذمہ دار بھی ہے کہ اگر فراڈ دھوکہ ہوا تو 850 بھی واپس کرتے ہیں۔اب پوچھنا یہ ہے کہ اس کمپنی کے کاروبار کی شرعا کیا حیثیت ہے ؟اور کیا اس کو جوائن کرنا یا اس میں کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ کمپنی”EBL-Pakistan‘‘ (ایزی بزنس لائف پاکستان)کےمتعلق ہماری معلومات کےمطابق چونکہ اس کمپنی کا مقصدمستقل طور پر کاروبار کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کو کمیشن کا لالچ دے کر کمپنی کی ممبر سازی کرنا ہے اور شریعت نے اپنے ہاتھ سے محنت کی کمائی کو بہترین کمائی قرار دیا ہے اور بغیر محنت کی کمائی کی حوصلہ شکنی فرمائی ہے۔ لہذا "ای بی ایل پاکستان" نامی کمپنی نیٹ ورک مارکیٹنگ/ ملٹی لیول مارکیٹنگ کی کمپنی ہے اور اس کے ساتھ کام کرنا جائز نہیں، جس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
.1 ہر نئے آنے والے ممبر سے رجسٹریشن کے نام پر جو آٹھ سو پچاس850)) روپے لیے جاتے ہیں، وہ صرف اس لیے لیے جاتے ہیں کہ اسے مارکیٹنگ کا موقع دیا جائے گا، یعنی اس کے ساتھ "سمسرہ" کا عقد کیا جائے گا، اور محض عقد کرنے کی وجہ سے کچھ لینا شرعا "رشوت" میں داخل ہے، جو کہ حرام اور ناجائز ہے۔
.2ہر نیا آنے والا ممبر آٹھ سو پچاس850) (روپے اس امید پر دیتا ہے کہ وہ اور ممبر لاکر بہت سارا روپیہ حاصل کر لے گا۔ پھر ممکن ہے کہ وہ اور ممبر لاکر بہت سارا روپیہ کمالے، اور ممکن ہے وہ اور کوئی ممبر نہ لاسکے اور اس کے اپنے آٹھ سو پچاس850) ( روپے بھی ڈوب جائیں۔ اور اپنا مال اس طرح داؤ پر لگانا شرعا "قمار" یعنی جوا ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔
.3 ہرنئے آنے والے ممبر کے کمیشن کو کم از کم دو ممبر (رائٹ اور لفٹ) لانے کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے، اگر کوئی ایک ممبر لائے گا تو اس کو کچھ نہیں ملے گا۔ یہ بھی شرعا درست نہیں؛ کیونکہ ایک تو اس نے جتنی محنت کی ہوگی، اسے اس کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا، دوسرا اس میں غرر ہے، اجرت یعنی کمیشن وجود اور عدم کے درمیان دائر ہے، کہ اگر وہ دو ممبر لائے گا تو اجرت ملے گی اور ایک لائے گا تو نہیں ملے گی۔
.4جب کوئی ممبر دو ممبر (لفٹ اور رائٹ) لائے تو اس کے بعد اگر وہ کام نہ کرے تب بھی ان دونوں ممبران کے ذریعے آنے والے ممبران اور پھر آگے ان کے ذریعے آنے والے ممبران کے آنے پر اس کو کمیشن میں حصہ ملتا رہے گا، حالانکہ اس میں اس کی کوئی محنت شامل نہیں ہوتی۔ اور خود کام کیے بغیر دوسروں کی محنت کی کمائی میں حصہ دار بننا درست نہیں۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی:ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيمٗا ﵞ [النساء: 29]
قال اللہ تعالی: ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٩٠ﵞ [المائدة: 90]
أخرج الإمام أحمد في ’’مسندہ‘‘(28/ 502((الحدیث رقم : 917265) من حدیث عباية عن جده رافع بن خديج رضي اللہ عنہ قال: قيل: يا رسول الله! أي الكسب أطيب؟ قال: عمل الرجل بيده، وكل بيع مبرور. قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:قوله 🙁 لأنه يصير قمارا ) ؛لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص. (رد المحتار (6/ 403)
وفي الھدایۃ: فلو جوزناه ،لكان استحقاقا بغير عمل، ولم يرد به الشرع. (الھدایة:430/4) (
وقال الشیخ الإسلام المفتی التقی العثمانی دامت برکاتھم العالیہ: البیع عن طریق شبکة التسویق (Marketing Network): وقد جری عمل بعض الشرکات علی أنها تبیع منتجًا من منتجاتها، مع إعطاء الحق للمشتري أن یسوق ذلك المنتج، ویلتمس له مشترین آخرین. فلو فعل ذلك ونجح في الحصول علی عدد من المشترین، بشروطٍ یعینها نظام الشرکة، فإنه یفوز بمبلغ أو شیئٍ ثمین من قبل الشرکة. وکذلك المشترون الجُدَدُ الذین اشتروا هذا المنتج بوساطة المشتری الأول یحق لهم أن یلتمسوا مشترین آخرین، فإن نجحوا في إیجاد عدد معین من المشترین بالشروط المعینة في النظام، فإنهم یستحقون ذلك المبلغ أو الشیئ الثمین أیضًا. وإن بلغ المشترون عن طریق هذه الشبکة عددًا معینًا، فلا یزال المشتري الأول یحصل علی مبالغ أو أشیاء معینة في النظام عند دخول المشترین الجُدَدِ بشروط معینة، وإن کان قد عمل في الحصول علی المشترین لأول مرة فقط. وإن هذا الطریق بدأته بعض الشرکات في البلاد الغربیة، ثم اختارته بعض الشرکات في البلاد الإسلامیة أیضًا. وقد تسمی "نظام شبکة التسویق"
(Marketing Network System) أو "نظام عدة مستویات للتسویق" (Multi- Level Marketing System )، وقد یخفف، فیقال:.MLM وقد جری العمل به بطرق وشروط مختلفة، ولکن القدر المشترك في جمیعها أن بیع المنتَج مصحوب بنظام للتسویق یدخل فیه المشترون، ویلتمسون مشترین آخرین، ویفوزون في بعض الحالات المشروطة في النظام بمبالغ أوأشیاء ثمینة. وإن الحکم الشرعي لهذا النظام وشراء منتجاته یختلف باختلاف الأحوال:
1-إن کان بیع المنتَج مشروطًا بأن یدخل المشتري في شبکة التسویق، فهذا البیع فاسد؛ لاشتراط ما لایقتضیه العقد.
2-إن کان الدخول في شبکة التسویق غیر مشروط في بیع المنتَج، واقتصر المشتري علی شراء المنتَج فقط، ولم یدخل في شبکة التسویق، فهو شراؤ جائز، إذا استوفی شرائط جواز البیع، ومنها أن یکون المبیع حلالًا.
3-إن کان الدخول في شبکة التسویق غیر مشروط في بیع المنتَج، ولکن المنتج یباع بثمن أکثر من سعر مثله في السوق، فلا یجوز شراؤ المنتج بنیة الدخول في نظام التسویق، وذلك لأن الثمن الزائد لایدفع إلا للدخول في هذا النظام الذي هو عقد مستقل عن شراء المنتج، ولو فرض أن الدخول في السمسرة عقد صحیح، فإن هذه الزیادة في الثمن لیست إلا مقابل مجرد الدخول في العقد، وذلك رشوة. وأما إذا اعتبر عقد السمسرة عقدًا فاسدًا لما فیه من الغرر کما سیأتي، فإن هذه الزیادة تعلیق للتملیك علی الخطر، وهو قمار محرم.
4-إن کان الدخول في شبکة التسویق غیر مشروط في بیع المنتج، والمنتج یباع بسعر السوق، واشتراه المشتري بنیة الدخول في نظام التسویق، فالدخول في التسویق عقد مستقل عن البیع، وهو سمسرة من الناحیة الفقهیة، وما یتسلم من المبالغ بالتسویق هو أجرة للسمسرة، فیجب أن یستوفي العقد شرائط جوازه الشرعي. ولکن المتبع في هذا النظام عادةً أن المشتري لایستحق أجرة السمسرة بإیجاد مشتر واحد، وإنما یستحق الأجر إذا أوجد عددًا من المشترین، وإن أوجد المشترین بذلك العدد، فإنه لایزال یحصل علی حصةٍ من مبالغ تدفع علی إیجاد المشترین من غیره. وهنا نقطتان لا بد من بحثهما:
النقطة الأولی: هل یجوز الاشتراط علی السمسار أنه لایستحق الأجرة إلا إذا أتی بمشتر أکثر من واحد؟ وفیه احتمالان: الاحتمال الأول: أن یجوز علی أساس الجعالة، أما کون جهده یضیع دون عائد إن أتی بمشتر واحد فقط، فإن جهده یضیع في السمسرة العادیة أیضًا إن لم یتمکن من التماس مشتر واحد. فإن تحمل هذا الغرر في عقد السمسرة العادیة، فلایبعد أن یتحمل في اشتراط عدد من المشترین.
والاحتمال الثاني: أن لایجوز؛ لأن الغرر في إیجاد مشتر واحد أقل، وقد جری به التعامل. أما إذا اشترط عدد أکثر، فإن الغرر فاحش، ولم یجر به التعامل، فلایجوز. ولذلك منع الإمام مالك رحمه الله تعالی الجعل المشروط علی بیع سلع کثیرة. جاء في المدونة الکبری: "قلت: والكثير من السلع لا يصلح فيه الجعل في قول مالك؟ قال: نعم لا يصلح فيه الجعل وتصلح فيه الإجارة عند مالك. قلت: والقليل من السلع تصلح فيه الإجارة والجعل جميعا في قول مالك؟ قال: نعم. قلت: لم كره مالك في السلع الكثيرة أن يبيعها الرجل للرجل بالجعل؟ قال: لأن السلع الكثيرة تشغل بائعها عن أن يبيع أو يشتري أو يعمل في غيرها, فإذا كثرت السلع هكذا حتى يشتغل الرجل لم يصلح إلا بإجارة معلومة. قال لي مالك: والثوب والثوبان وما أشبههما من الأشياء التي لا تشغل صاحبها عن أن يعمل في غيرها, فلا بأس بالجعل فيها وهو متى ما شاء أن يترك ترك والإجارة ليس له أن يتركها متى ما شاء. " وإن الغرر في مثل هذا النظام کثیر، وخاصة لأنه یعتمد عادةً علی شروط معقدة یفحش بها الغرر.
والذي شهدت به التجربة أن المنتج في غالب الأحیان شیئ یسیر یباع بثمن غالٍ، وقد لایوجد له السوق، وإنما یشتریه الناس طمعًا في الحصول علی مبالغ ضخمة عن طریق شبکة التسویق. وکان بعض الناس قبل هذا النظام لایبیعون شیئًا، بل یتسسلمون الأموال بدفعهم تذاکر لیس وراءها مال أومنفعة، غیر أن الذي یأخذ هذه التذکرة یدخل في الشبکة، ویلتمس آخرین لشراء التذاکر، ویفوز بمبالغ إن بلغ المشترون إلی عددٍ معین. وکان ذلك قمارًا بحتًا، ویسمی "الطریقة الأهرامیة" (Pyramid Scheme) ومنعته قوانین أکثر البلاد؛ لأنه اغتصب أموال الناس بهذه المقامرة. فلما منعت هذه الطریقة، أدخلوا بعض المنتجات بدل التذاکر، ولکن زادوا في ثمنها، وسموها "شبکة التسویق، والمقصود نفس ما کان مقصودًا في الطریقة الأهرامیة. وإنه لم یمنع في کثیر من البلاد حتی الآن، ولکنه بهذه الطریقة ممنوع شرعًا . ( فقه البیوع: 2 /815-812)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃ الر شید،کراچی
23/ربیع الثانی،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


