| 85958 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
السلام علیکم!
پاکستان پوسٹ نے گاؤں کے اندر ڈاک تقسیم کرنے کے لیے ڈاکیے رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ دو آدمی ہوتے ہیں، ایک کو 1560 اور دوسرے کو 1200 سے کچھ اوپر روپے ماہانہ دیتے ہیں ،اس کے علاوہ کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا ۔ اب تقریباً ایک سال سے محکمے کی طرف سے کچھ بھی معاوضہ نہیں مل رہا۔ پوچھنا یہ ہے کہ ڈاکیہ جس کو ڈاک تقسیم کرے یا وہ آ کر ڈاکیے کے گھر سے لے جائےتو کیا ڈاکیہ اس سے کچھ رقم 20، 50 ، 100 روپے کا مطالبہ کر سکتا ہے؟ اس بارے میں تفصیل سے رہنمائی فرما دیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ڈاکیہ جو خدمت سر انجام دے رہا ہے اس پر اسے عوام نے نہیں بلکہ محکمۂ ڈاک نے مامور کیا ہے ، لہذا اجرت کی ادائیگی بھی اسی پر ہے۔ ڈاکیے کو اس بات کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ ڈاک پہنچانے پر لوگوں سے اجرت لے۔ اگرچہ طے شدہ اجرت بہت کم ہے لیکن محکمے نے اپنے ذمے لی ہوئی ہےاور وہی اس کی ادائیگی کا پابند ہے۔محکمے کی طرف سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کو بنیاد بنا کر لوگوں سے اجرت طلب کرنا درست نہیں ،کیونکہ ڈاک تقسیم کرنا محکمہ ڈاک کی طرف سے ڈاکیے کی ذمہ داری ہے اور ذمہ داری کی ادائیگی پر لوگوں سے پیسے لینا رشوت کے زمرے میں آتا ہے جو کہ حرام ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص صراحتاً یا اشارتاً کسی بھی طرح کے مطالبے کے بغیر کچھ ہدیہ دے دے تو اسے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ جات
قال العلامۃ علی القاری رحمہ اللہ:وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما : بالواو (قال: "لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي") : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة ؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلا يجوز لهم الأخذ عليه.(مرقاة المفاتيح :6/ 2437)
وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام :منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي ،وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة، الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق لأنه واجب عليه، الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر ،أو جلبا للنفع، وهو حرام على الآخذ فقط،وحيلة حلها أن يستأجره يوما إلى الليل أو يومين ،فتصير منافعه مملوكة ،ثم يستعمله في الذهاب إلى السلطان للأمر الفلاني، وفي الأقضية قسم الهدية، وجعل هذا من أقسامها، فقال: حلال من الجانبين كالإهداء للتودد، وحرام منهما كالإهداء ليعينه على الظلم ،وحرام على الآخذ فقط وهو أن يهدي ليكف عنه الظلم ،والحيلة أن يستأجره. قال أي في الأقضية: هذا إذا كان فيه شرط، أما إذا كان بلا شرط لكن يعلم يقينا أنه إنما يهدي ليعينه عند السلطان فمشايخنا على أنه لا بأس به، ولو قضى حاجته بلا شرط ولا طمع فأهدى إليه بعد ذلك فهو حلال لا بأس به،الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع ،حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب، ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب. (رد المحتار:5/ 362)
سعد امین بن میر محمد اکبر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
14/جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سعد امین بن میر محمد اکبر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


