03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر،دوبیٹے اورچار بیٹیوں میں تقسیم میراث
86705میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 ہماری امی کا زیور ہے،جو بڑی بہن کے پاس ہے ،اسے بھی شرعی طور پر تقسیم کرنا ہے،ہماری امی کا انتقال والد صاحب کے انتقال سے پہلے ہوچکا تھا،ان کے انتقال کے وقت ان کے درج ذیل ورثہ موجود تھے۔

افتخار الدین ہاشمی (شوہر)        سید اظہار الدین (بیٹا)       سید اطہر جمال(بیٹا)    سیدہ عمرانہ زرین (بیٹی)

سیدہ طیبہ زرین(بیٹی)            سیدہ عرفانہ زرین(بیٹی)     سیدہ حبیبہ ناز(بیٹی)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔زیور کی تقسیم کا طریقہ کار بھی میراث ہی کی طرح ہے،اس لیے اسی ترتیب کے مطابق حصے 

تقسیم ہوں گے،نیز اس میں آپ کے والد (جوکہ اس وقت حیات تھے)کا حصہ بھی ذکر کیا

جائے گا،جو ان کی میراث کاحصہ بن کرتمام ورثہ میں تقسیم ہوگا،جیساکہ اوپر لکھاجاچکاہے۔

2۔مرحومہ نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحومہ کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب مرحومہ کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:۔

میراث کے 32حصے بنائے جائیں گے،8حصے شوہر کوملیں گے،6 حصے ہربیٹے کو ملیں گے،دونوں بیٹوں کے کل حصے12 ہوں گے۔ اور3 حصے ہربیٹی کو ملیں گے،چار بیٹیوں کے کل 12 حصے ہوں گے.

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

افتخار الدین ہاشمی (شوہر)

8

25

2

سید اظہار الدین (بیٹا)

6

18.75

3

سید اطہر جمال(بیٹا)

6

18.75

4

سیدہ عمرانہ زرین (بیٹی)

3

9.375

5

سیدہ طیبہ زرین(بیٹی)

3

9.375

6

سیدہ عرفانہ زرین(بیٹی)

3

9.375

7

سیدہ حبیبہ ناز(بیٹی)

3

9.375

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

28/ رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب