| 85511 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
دادی کے ورثہ میں دوبیٹے ، تین بیٹیاں اور دوبھائی ہیں،ان کے حصہ کی تقسیم کیسے ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحومہ کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک
تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:۔
میراث کے 7 حصے بنائے جائیں گے،جن میں سے ہربیٹے کو دو حصے جبکہ بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔دوبھائیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
2 |
بیٹا |
2 |
28.571 |
3 |
بیٹا |
2 |
28.571 |
4 |
بیٹی |
1 |
14.285 |
5 |
بیٹی |
1 |
14.285 |
6 |
بیٹی |
1 |
14.285 |
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
16/ جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


