| 85356 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
جس بندہ نے مذکورہ اراضی وقف کی تھی اس کا بیٹا یا کوئی اور ،جو یہ زمین خرید لیتا ہے،اپنے لیے مکان بنوا سکتا ہے یا کاشت کاری وغیرہ کے لئے استعمال میں لاسکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وقف زمین کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے ، لہذا اس پر اپنی ذاتی ضرورت کے مکان بنانا بھی درست نہیں ہے،اگر اس جگہ مسجد ومدرسہ بنانے کی ضرورت یا استطاعت نہ ہوتو ویرانی سے بچانے اور آباد رکھنے کےلیے مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایہ پر حاصل کرنے کی گنجائش ہے،جس میں فصل وغیرہ کے ذریعہ کاروبار کیا جاسکتاہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (2/ 490):
ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف، كذا في السراج الوهاج.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
08/ جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


