| 86833 | امانتا اور عاریة کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
اگر کسی کی امانت میرے پاس رکھی ہو اور مجھے اس کی ضرورت پڑ جائے تو کیا اس نیت کے ساتھ اس کو استعمال کر سکتا ہوں کہ اس کو دوبار ہ اتنی مقدار میں رکھ کر مطالبے کے وقت واپس کردوں گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس شخص کے پاس امانت کے طورپر رقم یا کوئی اورچیز رکھوائی گئی ہوتو اس چیز کی حفاظت کرنا اور بعینہ وہی چیز لوٹانا لازم ہے،امانت دار کے لیے مالک کی اجازت کے بغیر اس کا استعمال جائز نہیں ہے،اگرچہ وہ اسے اپنی ضرورت کے وقت اور اس نیت سے استعمال کرے کہ وہ اتنی مقدار میں رقم یا اس جیسی چیزمالک کو واپس کرے گا،لہٰذا اگر کوئی سخت ضرور ت در پیش ہوتو کسی اور سے قرض لے لیا جائے یا امانت کی چیز کے مالک سے اجازت لے کر وہ چیز بطورِ قرض استعمال کی جائے ۔
حوالہ جات
أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (3/ 172):
إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها...قال أبو بكر ما اؤتمن عليه الإنسان فهو أمانة فعلى المؤتمن عليها ردها إلى صاحبها فمن الأمانات الودائع على مودعيها ردها إلى من أودعه إياها.
الفتاوى الهندية (4/ 338):
وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع، وصيرورة المال أمانة في يده، ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني.الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن.
دررالحکام شرح مجلة الأحكام (1/ 191،192دارالکتب العلمیۃ)
لا يتعين الثمن بالتعيين في العقد...احکام النقود ھی اولافی البیع وفی سائر عقود المعاوضۃ...فإذا إذا كانت العقود ليست للمعاوضة كالأمانة والوكالة والشركة والمضاربة والغصب فالنقود تتعين فيها بالتعين،مثال ذلك: الأمانة - إذا أودع إنسان آخر مائة دينار فإذا كانت تلك الدنانير موجودة عينا وجب على المودع أن يردها عينا إلى صاحبها، وليس له أن يبقي تلك النقود ويدفع إلى المودع غيرها بغير رضاه.
امانت کی رقم تبدیل کرنے کا حکم
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
6/شعبان/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


