| 86806 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ
باہمی جھگڑے کے دوران، میں نے اپنی بیوی کو پورے ہوش و حواس میں مخاطب کرتے ہوئے یہ الفاظ کہ "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں" اور اس کے بعد، اپنی گری ہوئی عینک اٹھاتے ہوئے اگلا جملہ کہا"بس یہ طلاق ہو گئی" یہاں میں نے اپنی بیوی کو مخاطب نہیں کیا، بلکہ خود سے ہم کلام ہوتے ہوئے پہلے جملے کی تاکید میں کہا۔اور اس کے بعد کمرے سے نکلتے ہوئے، اسی طرح ہم کلامی کے انداز میں ایک اور جملہ (جو صحیح طرح یاد نہیں، غالباً "بس میں نے طلاق دے دی" کہا) ادا کیا۔ جب میں کمرے سے نکل رہا تھا تو میری بیوی، جو کہ ہماری 16 سالہ بیٹی کے ساتھ موجود تھی، نے اس سے کہا کہ "اس نے تین مرتبہ کہا ہے۔" جس پر میں نے فوراً اس بات کو رد کیا اور کہا کہ "میں نے صرف ایک طلاق دی ہے اور باقی جملے پہلے کی تاکید میں خود سے کلام کرتے ہوئے کہے"۔
میں اب بھی یقین کے ساتھ یہی کہتا ہوں کہ میں نے ایک ہی طلاق دی ہے اور باقی جملے محض تاکید تھے۔ بہرحال، اس واقعے کے فوراً بعد ہمارے استاد اور ان کی اہلیہ آئے اور میری بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ مانیں اور اپنے گھر چلی گئیں۔یہ واقعہ 16 نومبر 2024 کو پیش آیا۔ اس دوران میں مسلسل صلح کی کوشش کرتا رہا ہوں اورقولی اور تحریری رجوع کر چکا ہوں۔
١۔احناف کے فتوے کے مطابق، طلاق ایک ہوئی ہے یا تین؟ میں ساری صورتحال اور واقعے کی نوعیت واضح کر چکا ہوں۔
۲: میں نے مختلف مواقع پر قولی اور تحریری طور پر جو رجوع کیا ہے، کیا اسے رجوع سمجھا جائے گا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔مذکورہ صورت میں، اگر واقعۃً آپ نے پہلا جملہ "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں" طلاق کی نیت سے کہا تھا اور بعد کے جملے "بس یہ طلاق ہوگئی" اور "بس میں نے طلاق دے دی" محض تاکید اور خودکلامی کے طور پر کہے تھے، اور ان میں طلاق کی نیت آپ کی نہیں تھی، اور اس پرآپ بھی حلف بھی اٹھا سکتے ہیں اور بیوی کو بھی آپ کی بات پر اطمینان ہے، تو احناف کے ہاں آپ کے بیان کے مطابق ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہے، تین نہیں، اور بیوی کے لیے آپ کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہے۔
۲۔اگروہ رجوع آپ نے عدت کے دوران کیا ہے، تو شرعاًوہ معتبر ہے اور نکاح برقرار ہے۔ اور اگرعدت کےبعد کیا ہے تو وہ صحیح نہیں ہے، اس لیے نکاح عدت گزرنےسے ختم ہو جاتاہے،البتہ دوبارہ نکاح عدت کے بعد ﴿بشرطیکہ طلاق
تین ہوں﴾ہوسکتاہے۔
مذکورہ ایک طلاق سے پہلے اوربعدمیں اگرآپ نے اپنی بیوی کومزید کوئی طلاق نہیں دی ہےتواب آپ کے پاس مزید دوطلاقوں کااختیارباقی ہے۔
حوالہ جات
الأشباه والنظائر - حنفي ج: ۱ ص: ۷۲
ولو كرر لفظ الطلاق فإن قصد الاسئناف وقع الكل أو التأكيد فواحدة ديانة والكل قضاء.
الدر المختار للحصفكي ج: ۳ ص: ۳۲۲
كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين.
حاشية رد المحتار ج:۳ ص: ۳۲۲
قوله: (وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء، وكذا إذا اطلق أشباه: أي بأن لم ينو استئنافا ولا تأكيدا، لان الاصل عدم التأكيد.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 37)
(سئل) في رجل قال لزوجته روحي طالق وكررها ثلاثا ناويا بذلك جميعه واحدة وتأكيدا للأولى وزجرها وتخويفها وهو يحلف بالله العظيم أنه قصد ذلك لا غيره فهل يقع عليه بذلك واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعة زوجته في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان؟
(الجواب) : لا يصدق في ذلك قضاء لأن القاضي مأمور باتباع الظاهر والله يتولى السرائر وإذا دار الأمر بين التأسيس والتأكيد تعين الحمل على التأسيس كما في الأشباه ويصدق ديانة أنه قصد التأكيد ويقع عليه بذلك طلقة واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعتها في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان لأن روحي طالق رجعي كما في الفتاوى الخيرية والتمرتاشي وغيرهما وأما روحي فقط فإنه كناية إذ هو كاذهبي كما صرح به صاحب البحر لكن لا يصدق أنه قصدا لتأكيد إلا بيمينه لأن كل موضع كان القول فيه قوله إنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره والقول قوله مع يمينه كما في الزيلعي وأفتى بذلك التمرتاشي.
وقال في الخانية لو قال أنت طالق أنت طالق أنت طالق وقال أردت به التكرار صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا. اهـ. ومثله في الأشباه والحدادي وزاد الزيلعي أن المرأة كالقاضي فلا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو علمت به لأنها لا تعلم إلا الظاهر. اهـ.
وفی أحسن الفتاوى: 5(/161)
إذا كانت الزوجة على يقين تام من حقيقة الأمر، وكان قلبها مطمئنًا تمامًا بأن الزوج قد نشر خبر الطلاق كذبًا مئات المرات، فيجوز لها تجديد النكاح معه. وذلك لأن الحكم القضائي بوقوع الطلاق في هذه الحالة مبني على الاشتباه بشبهة التهمة، ولكن إذا تبيّن للمرأة حقيقة الحال، فلا يكون هناك شبهة التهمة في حقها، وبالتالي لا تثبت الحرمة عليها.وهذا ما يقتضيه مبدأ "المرأة كالقاضي"، ولهذا ورد في مسألة "القضاء بعلمه" أن ذلك غير جائز في الحدود الصرفة لله تعالى، لكنه جائز عند المتقدمين في غير الحدود، بينما المتأخرون منعوه بسبب فساد الزمان. غير أن هذه العلة تؤثر فقط في القضاء على الغير، وأما في حق الشخص نفسه عند معرفته بالحكم فلا تأثير لها، لذا يجوز له أن يعمل بعلمه في شأنه الشخصي.
المبسوط للسرخسي (6/ 209)
ما في قلبه وما في قلبها لا يمكن الوقوف على حقيقته فإنما يتعلق بالسبب وهو الإخبار فإذا أخبر بخلاف ما جعله شرطا لم يقع عليها شيء.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (5/ 210)
فإن جحد عند الحاكم أنه فعل وليس لامرأته بينة حلفته عند الحاكم، فإن حلف وسعها المقام معه. قلت: فهذه المسألة تقيد مسألة ما إذا علمت أنه طلقها ثلاثا يقينا ثم أنكر فإنها لا تمكنه أبدا، وإذا لم تستطع منعه عنها لها أن تسمه.
وفی الهداية (ج 1 / ص 254)
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض لقوله تعالی:
{فأمسكوهن بمعروف } [ البقرة : 231 ] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمي إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة قال : أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة.
وقال اللہ تعالی:
وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (228) الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ [البقرة/228، 229]
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 50)
(قوله والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي) هذا صريح الرجعة ولا خلاف فيه ...وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد وإن نظر إلى سائر أعضائها بشهوة لا يكون مراجع.
ایک کی نیت سے ”طلاق“ تین مرتبہ تاکید کے لیے کہنے سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟
مسئلہ تین طلاق سے متعلق شبہات کےجوابات پرمشتمل مفصل و مدلل فتوی
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۳/۸/۱۴۴٦ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


