03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دل میں “نہیں”کہہ کر طلاق دینےکاحکم
84584طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسائل کے بارےمیں کہ

میں نے اپنے بیٹے کی شادی کی، مگروہ ایک دن بھی برقرار نہ رہی، کیونکہ لڑکی کا دل اس شادی پر راضی نہ تھا 9 ماہ جرگوں میں لگے، لیکن لڑکی نے شوہر کو حقِ زوجیت سےاس دوران مکمل محروم رکھا،اس  کے نکاح میں 6 تولہ حق مہر مقرر ہوا تھا، بالآخر ایک جرگہ میں لڑکی کی طرف سے اس کےوالدین نے طلاق  کا مطالبہ کر دیا  اور دیا گیا ڈیڑھ تو لہ زیور بھی جرگہ میں لڑکی کو چھوڑ دیا گیا،جبکہ طلاق کا مطالبہ ان کی طرف سےتھا اور اور شوہرکوحق زوجیت سے بھی اس نے محروم  کررکھا تھا،توپوچھنایہ ہے کہ

١۔جب طلاق بھی لڑکی والے خود مانگیں تو کیاحق مہر پھر بھی اُن کا حق بنتا ہے یا نہیں؟

۲۔جرگہ میں طلاق اس طرح ہوئی کہ میرےلڑکےکا ارادہ طلاق دینے کا نہ تھا،لیکن شر وفساد سے بچنے کیلئے اور ضمانت میں قرضہ کی رقم بچانے کیلئے طلاق کے الفاظ اس نےاس طرح ادا کیے کہ "میں طلاق نہیں دیتا ہوں" یعنی طلاق دیتا ہو بلند آواز میں کہا اور نہیں دل میں بولا کہ کوئی سن نہ سکے،3 بار اسی طرح کہا اور ہر بار نہیں کا لفظ سنایا نہیں گیا، بلکہ نہیں کا لفظ خاموش رکھا گیا (نوٹ) طلاق کے لفظ بولتے وقت نام نہ اس نے اپنالیاتھا اور نہ بیوی کا یعنی اس طرح نہیں  کہاتھاکہ میں ندیم انورفلاں بنت بلاں کوالخ،  بلکہ صرف یہ الفاظ ادا کئےتھے کہ "میں طلاق نہیں دیتاہوں" طلاق دیتاہوں ظاہرکیا اور"نہیں"کا لفظ ظاہر نہیں کیاخلاصہ یہ ہےکہ شوہرنے تین باریہ والالفظ" میں طلاق نہیں دیتاہوں" اس طرح اداکیا کہ طلاق دیتاہوں سنایا گیا اورنہیں کو نہیں سنایا گیا، کیونکہ شوہرنے طلاق نہ دینےا کا ارادکیاتھا۔

آیایہ تین طلاق میں شمار ہوگا یاطلاق نہ دینے کے زمرے میں آئے گا؟کیونکہ شوہر نے ارادہ طلاق نہ دینے کا کیاتھا صرف شروفساد اورجرگہ میں رکھے گئے پچاز ہزارروپے بچانے کی غرض سے طلاق کے الفاظ اُس انداز میں بولےجو پہلےاوپر لکھ چکاہوں ، اس بارے میں فتوی دیں کہ شریعت میں اس کا کیاحکم ہے ؟آیا  اس طرح کے الفاظ سے  طلاق ہوتی ہے  جبکہ شوہر نے ارادہ طلاق نہ دینے کیاہو؟مذکورہ الفاظ کہتے وقت میں بھی بیٹے کے ساتھ تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

١۔ٍصورت مسئولہ خلع کی نہیں، بلکہ طلاق کی ہے،اگرچہ یہ طلاق شوہرنے جرگہ کے مطالبہ پردی ہے، اس میں عورت پورے مہر کی مستحق ہوگئی تھی،اس لیے کہ اگرچہ عورت نے اپنے اوپرقدرت خاوندکوقدرت نہیں دی،مگرخلوتِ صحیحہ تو9ماہ کے دوران ہوئی ہوگی جس سے پورے مہر کا استحقاق ہوگیا تھا،تاہم جب دوسرا فریق جرگے کے فیصلے پر راضی ہوا تو گویا ڈیڑہ تولہ سونا کے علاوہ باقی مہر کے عوض انہوں نے بذریعہ جرگہ شوہرسے طلاق کا مطالبہ کیا اورشوہرنے اس مطالبہ کو منظورکرتے ہوئے طلاق دی،لہذاباقی مہرتو معاف ہے،مگرڈیڑھ تولہ  زیورعورت کا حق ہے جو اس نے پہلے سے لیا ہواہے،کیونکہ طلاق سے پہلے خلوت صحیحہ سے ہی مہر واجب ہوگیاتھا، بس طلاق بشرط المال کی وجہ سے ڈیڑہ تولہ کے علاوہ معاف ہواہے۔

۲۔واضح رہے کہ زبان سے طلاق کے الفاظ اوردل میں "نہیں" کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ یہ کہا کہ:" میں طلاق دیتاہوں" تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور وہ اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے،اب رجوع جائز نہیں اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،سائل کی بیوی اپنی عدت(تین ماہواریاں اگر حاملہ نہ ہو اور اگر حاملہ ہو تو بچہ کی پیدائش تک)گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

حوالہ جات

البناية شرح الهداية (5/ 665)

 ولو كانت مقيمة في منزله، ولم تمكنه من الوطء لا تكون ناشزة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 114۔۔۔119):

" (والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء  ... (كالوطء)  ۔۔۔۔۔۔۔۔ (في ثبوت النسب) ولو من المجبوب (و) في (تأكد المهر) المسمى (و) مهر المثل بلا تسمية و (النفقة والسكنى والعدة وحرمة نكاح أختها وأربع سواها) في عدتها.

(قوله وفي تأكد المهر) أي في خلوة النكاح الصحيح ۔۔۔۔۔۔۔ (قوله والعدة) وجوبها من أحكام الخلوة سواء كانت صحيحة أم لا ط: أي إذا كانت فيه نكاح صحيح، أما الفاسد فتجب فيه العدة بالوطء كما سيأتي''.

الفتاوى الهندية (1/ 495):

"الفصل الثالث في الطلاق على المال، إن طلقها على مال فقبلت وقع الطلاق ولزمها المال وكان الطلاق بائنا كذا في الهداية."

قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى:

(وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه، فتحوصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى لا بأس به يفيد أنها تنزيهية وبه يحصل التوفيق.(الدر المختار مع حاشية رد المحتار:٣/٤٤٥)

فی الدرالمختار:

"(قال لها أنت طالق إن شاء الله متصلا)...  (مسموعا) بحيث لو قرب شخص أذنه إلى فيه يسمع فيصح استثناء الأصم خانية.

وفي ردالحتار:

(قوله مسموعا) هذا عند الهندواني وهو الصحيح كما في البدائع. وعند الكرخي ليس بشرط (قوله بحيث إلخ) أشار به إلى أن المراد بالمسموع ما شأنه أن يسمع وإن لم يسمعه المنشئ لكثرة أصوات مثلا ط."(کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب مسائل الاستثناء والمشيئة، 3/366۔368، ط: سعید)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 357)

والحاصل أن يقال في المسألة قولان: قول للكرخي وقول للهندواني والاعتماد على قول الهندواني والله تعالى أعلم. اهـ.

فی الدرالمختار:

فلو طلق أو استثنیٰ و لم یسمع نفسہ لم یصح في الأصح۔ (الدر المختار:۲/۲۵۳ / فصل في القراء ة ط:زکریا دیوبند)

وفي الشامیة:

" كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق۔۔۔۔۔۔(قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاءً."(کتاب الطلاق، 3/293، ط: سعید)

وفی الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196):

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.

وفی أحكام القرآن للجصاص( ج: 5  ص: 415):

قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

12/02/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب