| 86887 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں پہلے دی تھیں اور میرے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی تھا ۔پھر ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی کو فون کیا تو بات کرتے کرتے میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ ٹھیک ہے" میں پنچھی کو آزاد کرتا ہوں اور تمہیں فارغ کرتا ہوں"،لیکن پہلے تم نکاح نامہ لاؤ اور اس پر مہر دیکھو،تو بیوی نے کہا کہ تین تولے ہے اور میں نے کہا نہیں،دو تولے ہے ۔اس پر بہت بحث مباحثہ ہوا اور میں نے پھر بیوی کو بولا کہ ٹھیک ہے گاؤں والی زمین کے بدلے باقی زیور تمہارا حق مہر ہے اور میں تمہیں بس اب فارغ کرتاہوں ۔لیکن یہ ساری باتیں بس میں نے بیوی کو ڈرانے کی نیت سے کی تھیں۔اب میری بیوی کہتی ہے کہ اس سے طلاق ہو گئی ہے۔ آپ حضرات بتائیں کہ طلاق واقع ہوئی ہےیا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق کے بعض کنائی الفاظ وہ ہیں،جن سے طلاق کے وقوع کے لیے نیت یا مذاکرۂ طلاق ضروری ہوتا ہے۔جب شوہر نے کہا: "میں پنچھی کو آزاد کرتا ہوں اور تمہیں فارغ کرتا ہوں، لیکن پہلے نکاح نامہ لاؤ" تو یہ جملہ مستقبل کے معنی میں تھا، اس لیے اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔ تاہم اس کے بعد جب شوہر نے کہا: "بس اب میں آپ کو فارغ کرتا ہوں" تو اس جملے سے طلاق واقع ہوگئی،کیونکہ یہ الفاظ کنائی ہیں اور ان سے پہلے طلاق کا تذکرہ بھی ہو چکا تھا اور دو طلاقیں پہلے واقع ہوچکی ہیں، اس لیےاب رجوع یا تجدید نکاح کا حق بھی نہ ہوگا۔البتہ اگربیوی کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد طلاق ہوجائےیا شوہر فوت ہوجائےتو عدت گزارنے کے بعدپہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الزیلعی رحمہ اللہ تعالی:والكنايات ثلاثة أقسام :قسم منها يصلح جوابا ولا يصلح ردا ولا شتما، وهي ثلاثة ألفاظ :أمرك بيدك ،اختاري، واعتدي، ومرادفها ،وقسم يصلح جوابا وشتما ولا يصلح ردا ،وهي خمسة ألفاظ: خلية ،برية، بتة ،بائن، حرام، ومرادفها، وقسم يصلح جوابا وردا ولا يصلح سبا وشتيمة،وهي خمسة ألفاظ:اخرجي ،واذهبي، اغربي ،قومي ،تقنعي...وفي حالة الغضب لا يقع بكل لفظ يصلح للسب والرد وهو القسم الثاني والثالث؛ لأنه يحتمل الرد والشتم ولا ينافيه حالة الغضب ويقع بكل لفظ لا يصلح لهما بل يصلح للجواب فقط وهو القسم الأول لظاهر حاله.(تبيين الحقائق:2/ 217)
و فی الھندیۃ:(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي، اذهبي، اعزبي، قومي، تقنعي، استتري، تخمري، (وما يصلح جوابا وشتما) خلية، برية، بتة، بتلة ،بائن، حرام، والأحوال ثلاثة: (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها،(وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي ،وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها ،كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية :1/ 374)
وقال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی:قال إن قوله:"خليت" في حال الغضب وفي حال مذاكرة الطلاق يكون طلاقا حتى لا يدين في قوله إنه ما أراد به الطلاق. (بدائع الصنائع:3 / 631)
وقال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی:وإن كانت حال مذاكرة الطلاق وسؤاله أو حالة الغضب والخصومة فقد قالوا: إن الكنايات أقسام ثلاثة: في قسم منها لا يدين في الحالين جميعا؛ لأنه ما أراد به الطلاق لا في حالة مذاكرة الطلاق وسؤاله ولا في حالة الغضب والخصومة، وفي قسم منها يدين في حال الخصومة والغضب ولا يدين في حال ذكر الطلاق وسؤاله، وفي قسم منها يدين في الحالين جميعا...
(وأما) القسم الثاني فخمسة ألفاظ أيضا:"خلية " " بريئة " " بتة " " بائن " " حرام "؛ لأن هذه الألفاظ كما تصلح للطلاق، تصلح للشتم، فإن الرجل يقول لامرأته عند إرادة الشتم: أنت خلية من الخير، بريئة من الإسلام، بائن من الدين، بتة من المروءة، حرام أي مستخبث، أو حرام الاجتماع والعشرة معك.
وحال الغضب والخصومة يصلح للشتم ،ويصلح للطلاق فبقي اللفظ في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عني به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه، والظاهر لا يكذبه فيصدق في القضاء ولا يصدق في حال ذكر الطلاق؛ لأن الحال لا يصلح إلا للطلاق؛ لأن هذه الألفاظ لا تصلح للتبعيد، والحال لا يصلح للشتم فيدل على إرادة الطلاق لا التبعيد ولا الشتم فترجحت جنبة الطلاق بدلالة الحال. (بدائع الصنائع:3/107)
جنید صلاح الدین
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
20/شعبان المعظم6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


